گیارہ نرسیں زہریلی چیز کھانے کے بعد بے ہوش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سول ہسپتال کے ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر قرار عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ نرسوں کو رات کے وقت ہسپتال لایا گیا تھا اور انہیں طبی امداد پہنچائی گئی تھی اور اسی دوران ان کا میڈیکو لیگل ٹیسٹ بھی کرلیا گیا۔

پاکستان کے شہر کراچی میں پولیس کا کہنا ہے کہ سول ہسپتال کی گیارہ عیسائی نرسیں کوئی زہریلی چیز کھا کر بے ہوش ہوگئیں جنہیں طبی امداد بہم پہنچائی گئی لیکن ان میں سے ایک کی حالت اب بھی باعثِ تشویش ہے۔

پاکستان کرسچئن پوسٹ کی ویب سائٹ نے دعوٰی کیا ہے کہ ان گیارہ عیسائی نرسوں کو ماہ رمضان میں اپنے ہاسٹل میں چائے پینے پر سزا کے طور پر زہریلی چیز دی گئی ہے۔ ویب سائٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ گیارہ عیسائی نرسوں کو زہر دیے جانے کے بعد پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

تاہم پولیس کے ایک سینئر افسر نے اس دعوے پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کی ابھی تحقیقات کررہے ہیں۔

پولیس کے بقول تین نرسوں کی حالت زیادہ خراب تھی جن میں سے ایک کو اب بھی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے جبکہ دو نرسوں کو وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے اور باقی نرسوں کو ابتدائی طبی امداد دے کر فارغ کر دیا گیا ہے۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ارمان صابر کو پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ سنیچر کی رات گیارہ سے بارہ بجے کے دوران اُس وقت پیش آیا جب یہ نرسیں اپنے ہاسٹل میں چائے پی رہی تھیں۔

پولیس کے ایس پی عیدگاہ زاہد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ خواتین کے ہاسٹل کی سٹاف افسر ارشاد انجم نے ایف آئی آر نمبر 165 درج کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ رات کو جب راؤنڈ پر تھیں تو نرسیں چائے پی رہی تھیں اور جب وہ دوبارہ راؤنڈ پر آئیں تو انہوں نے دیکھا کہ گیارہ نرسیں بے ہوش پڑیں تھیں جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گیارہ نرسوں کو زیریلی چیز چائے میں ملا کر کھلانے پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

سول ہسپتال کے ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر قرار عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ نرسوں کو رات کے وقت ہسپتال لایا گیا تھا اور انہیں طبی امداد پہنچائی گئی تھی اور اسی دوران ان کا میڈیکو لیگل ٹیسٹ بھی کرلیا گیا۔

ڈاکٹر قرار عباسی نے کہا کہ متاثرہ نرسوں کے خون کے نمونے کیمیائی تجزیہ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں جبکہ ہاسٹل کے باورچی خانے میں چائے بنانے کے لیے استعمال میں آنے والی اشیاء کے نمونے بھی کیمیائی تجزیے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں جن کی رپورٹ ایک ہفتے میں متوقع ہے۔

پولیس کے ایس پی زاہد حسین نے کہا کہ پولیس نے ابتدائی ایف آئی آر ارشاد انجم کے بیان کے روشنی میں درج کرلی ہے اور کیمیائی رپورٹ آنے کے بعد اس پر مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اسی بارے میں