سوات: دریا کے کنارے غیر قانونی تعمیرات سے خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ریور پروٹیکشن ایکٹ سوات میں لاگو ہے جس کے تحت دریا کے کنارے سے دو سو فٹ میں کوئی عمارت بنانا غیر قانونی ہے

سوات میں دو ہزار دس میں آنے والے سیلاب کی تباہی کے بعد لوگوں نے دریائے سوات کے کنارے رہائشی اور تجارتی تعمیرات دوبارہ شروع کر دی ہیں۔

کاروباری اور عام لوگوں نے سیلاب سے تباہ ہونے والے علاقوں میں فنِ تعمیرات اور اس سے متعلقہ قوانین سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے اپنی مرضی کے مطابق ہی مکانات اور کاروباری مراکز آباد کرنا شروع کر دیے ہیں۔

زرمت اللہ خان شنواری نے کالام میں دریا کے کنارے ’نیو ہنی مون‘ کے نام سے ایک نیا ہوٹل تعمیر کیا ہے۔ اس سے پہلے ان کا سو کمروں کا ہوٹل دو ہزار دس کے سیلاب میں تباہ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے انہیں بیس کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

جب بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کو حکومت نے دریا کے کنارے تعمیر سے روکا یا تعمیر کے لیے کسی قسم کی آگاہی دی تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے نہ تو انہیں دریا کے کنارے ہوٹل تعمیر کرنے سے روکا ہے اور نہ ہی ان کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے کسی قسم کے طریقے سکھائے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دریا کے کنارے آباد ہوٹلوں کا کاروبار زیادہ چلتا ہے اور اسی لیے سیلاب کے خطرے کے باوجود انہوں نے دوبارہ دریا کے کنارے ہی نیا ہوٹل تعمیر کیا ہے۔

ضلع سوات کے نائب رابطہ کار افسر کامران رحمان نے دریا کے کنارے تعمیرات کو روکنے کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ ’دریا کے کنارے لوگ نجی زمینوں پر آباد کاری کر رہے ہیں۔ ہم نے صوبائی حکومت سے درخواست کی ہے کہ دریائے سوات کے حدود کی نشاندہی کرے یا پھر قانون سازی کے تحت تعمیراتی تجاوزات پر پابندی عائد کرے‘۔

دوسری طرف کالام سے صوبائی اسمبلی کے منتخب رکن جعفر شاہ کا کہنا ہے کہ دریا کی حدود معلوم ہیں اور متعلقہ قوانین بھی موجود ہیں جن کے تحت دریا کے کنارے کسی بھی قسم کی تعمیر کو روکا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس کے لیے باقاعدہ قانون موجود ہے اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے پاس رہنما اصول بھی ہیں جن کے تحت انہیں لوگوں کو آگاہ کرنا چاہیے کہ دریا سے کتنے فاصلے پر وہ تعمیرات کر سکتے ہیں۔ قانون کے مطابق دریا کے کنارے سے دو سو فٹ کے اندر آبادی نہیں ہو سکتی‘۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ہے اور اس کو ان قوانین پر عمل درآمد کروانا چاہیے۔

مینگورہ سے تعلق رکھنے والے ماہرِ تعمیرات شوکت علی شرر نے بتایا کہ قوانین تو بہت ہیں لیکن اصل مسئلہ ان پر عمل درآمد ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہاں ’ریور پروٹیکشن ایکٹ سوات‘ لاگو ہے جس کے تحت دریا کے کنارے سے دو سو فٹ میں کوئی عمارت بنانا غیر قانونی ہے لیکن اس قانون پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہورہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption نئی عمارتیں دریا کے بےحد قریب بنائی جا رہی ہیں

انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ ’لوکل گورنمنٹ آرڈینینس‘ کے تحت تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ہے کہ زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی اور تمام تعمیراتی کام قانون کے مطابق کروانے کی نگرانی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ قدرتی آفات کی روک تھام کے قوانین کے مطابق ایسے علاقوں میں جہاں قدرتی آفات کا خدشہ زیادہ ہو وہاں کسی قسم کی عمارت تعمیر کرنا غیر قانونی ہے۔

شوکت علی نے زمین کی ملکیت اور زمین کے استعمال اور حکومتی اداروں کے کردار کے حوالے سے مزید کہا کہ ’ہماری حکومت اور ہمارے عوام دونوں زمین کی ملکیت اور زمین کے استعمال میں فرق نہیں کرتے، زمین کی ملکیت رکھنا اور اس کا مالک ہونا الگ بات ہے، ملکیت مالک کا حق ہے لیکن زمین کو کس طرح استعمال میں لایا جائے اس میں حکومت کی عملداری، ضابطوں کا اطلاق اور عمل دخل ہونا چاہیے۔ بد قسمتی سے یہ ہو نہیں رہا کیونکہ نہ حکومتی اداروں میں صلاحیت ہے اور نہ عوام کی یہ خواہش ہے اور اس طرح ہم دوبارہ تباہی کے لیے اسباب بنا رہے ہیں‘۔

دو ہزار دس میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے دریائے سوات کے کنارے آبادی کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ ماہرین کے مطابق اب دریا کے کنارے دوبارہ تعمیرات قدرتی آفات کی صورت میں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے لیکن موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ ضلعی اور صوبائی حکومت کے متعلقہ ادارے ابھی تک دریائے سوات کے کنارے تعمیرات کو روکنے میں ہچکچا رہے ہیں۔

اسی بارے میں