لاہور: دو بم دھماکوں میں بیس افراد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پولیس نے دھماکے کی جگہ کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنےکا کام شروع کر دیا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں یکے بعد دیگرے ہونے والے دو دھماکوں میں کم از کم بیس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

زخمیوں میں سے دو زخمیوں کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

یہ دونوں دھماکے بدھ کی رات شہر کے گنجان آباد علاقے بادامی باغ میں واقع فروٹ منڈی میں ہوئے۔

پولیس کے مطابق پہلا دھماکہ فروٹ منڈی کے داخلی دروازے کے قریب ہوا تاہم کچھ دیر بعد ہونے والے دوسرا دھماکہ شدید نوعیت کا تھا جو فروٹ منڈی کے ساتھ ٹرک اڈے میں ہوا۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس حاجی حبیب الرحمان کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے بدھ کے روز جنوبی پنجاب میں شدت پسندوں کے سرغنہ کی ہلاکت کا رد عمل ہو سکتا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے آئی جی پولیس پنجاب نے کہا کہ شدت پسند کی ہلاکت کے بعد پولیس اس طرح واقعے کا خدشہ تھا۔

بدھ کے روز جنوبی پنجاب کے علاقے ڈیرہ غازی خان میں غازی گھاٹ کے مقام پر پولیس نے ایک مبینہ شدت پسند کو اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا جب انہوں نے بس چیکنگ کے دوران خود کو دستی بم سے سے اڑنے کی کوشش کی۔

ادھر لاہور میں کی فروٹ منڈی میں ہونے والے دونوں دھماکوں کے زخمیوں کو میو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور زخمیوں میں کوئی خاتون اور بچہ شامل نہیں ہے۔

پولیس نے دھماکے کی جگہ کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنےکا کام شروع کر دیا ہے۔

پولیس کو بم دھماکوں کی جگہ سے ایک ریموٹ کنٹرول بھی ملا ہے۔

دھماکوں کے بعد لاہور میں بم دھماکوں کے بعد شہر کےداخلی اور خارجی راستوں پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب لاہور پولیس نے فروٹ میں ہونے والے دو دھماکوں کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور یہ مقدمہ پولیس آفیسر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ’ہمیں اپنے اختلافات بھلا کر متحد ہو کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے لاہور انتظامیہ کے ایک اہلکار نورالمین مغل کے حوالے سے بتایا ہے کہ’ دونوں بم دھماکے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اس وقت کیے گئے جب لوگ افطار کے بعد فروٹ کی خریداری میں مصروف تھے، ایک دھماکہ پارکنگ کی جگہ پر ہوا جب کہ دوسرا بم ایک ریڑھی کے نیچے نصب تھا۔‘

دریں اثناء کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان کے مطابق ان کی تنظیم کا لاہور میں ہونے والے دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے بی بی سی کو نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بتایا کہ’مقامی میڈیا پر لاہور بم دھماکوں میں ان کی تنظیم کے ملوث ہونے کے حوالے سےنشر ہونے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ لاہور حملوں سے ان کی تنظیم ملوث نہیں ہے۔

خیال رہے کہ لاہور میں اس سے پہلے شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ان واقعات میں سکیورٹی اداروں کے علاوہ عوامی مقامات، صوفی بزرگ کے مزار اور شیعہ مسلک کے جلوسوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں