کراچی: قزاقوں سے رہائی کے بعد وطن واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رہائی کے بعد کراچی پہنچنے پر عملے کے ارکان آبدیدہ ہوگئے جبکہ ان کے اہلخانہ بھی خوشی سے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے

صومالی بحری قزاقوں کی قید سے رہائی پانے والے بحری جہاز ایم وی ال بیدو کا سات رکنی پاکستان عملہ کراچی پہنچ گیا ہے۔

ملائیشیا کے بحری جہاز پر تعینات عملے کو نومبر سال دو ہزار دس میں صومالی قزاقوں نے قید کیا تھا۔

پاکستان کے سات رکنی عملے کو رہا کیا گیا ہے جبکہ دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے پندرہ افراد اب بھی قزاقوں کی قید میں ہیں۔

صوبہ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے جمعرات کو ایک پریس کانفرس میں پاکستانی عملے کی رہائی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ صومالی قزاقوں کو تعاوان ادا نہیں کیا گیا البتہ اخراجات کی مد میں دس لاکھ ڈالر ادا کیے گئے ہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق پاکستانی عملے کو بدھ کے روز رہا گیا اور وہ دبئی کے راستے جمعرات کی رات کو کراچی پہنچے۔

کراچی آمد پر انہوں نے گورنر سندھ سے ملاقات کی۔

رہائی پانے والے بحری جہاز کے کپتان جاوید سلیم خان نے کراچی آمد پر کہا کہ’ انہیں نئی زندگی دی گئی ہے۔‘

صومالی قزاقوں سے مذاکرت کرنے والے احمد چنائے کے مطابق پاکستان میں مختلف خاندانوں اور گروپس نے پاکستانی عملے کی رہائی کے لیے گیارہ لاکھ ڈالر جمع کیے جو رواں سال دبئی میں مصالحت کاروں کے ساتھ رہائی کے حوالے سے کیے گئے اٹھائیس لاکھ پچاس ہزار ڈالر سے کم تھے۔

اس وقت بھی صومالی قزاقوں کی قید میں بحری جہاز ایم وی ال بیدو کے عملے کے ارکان ہیں۔

ان میں سات سری لنکن، چھ بنگلہ دیشی، ایک ایرانی اور ایک بھارتی شہری ہے۔

اسی بارے میں