پاور پالیٹکس کا مطلب لوڈشیڈنگ پر سیاست

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں پاور پالیٹکس یعنی اقتدار کی سیاست کی اصطلاح عام فہم ہے ۔ پاور پالیٹکس نے ملک میں جس قدر بے چینی افراتفری اور عدم استحکام پیدا کیا ہے اس سے سب ہی واقف ہیں لیکن آج کل ملک بھر میں پاور پالیٹکس کا مفہوم بدل گیا ہے اب پاور پالیٹکس کا مطلب ہے لوڈ شیڈنگ پر سیاست۔

بظاہر اس نئی پاور پالیٹکس میں صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبار شریف سب سے آگے ہیں جو پنجاب کو اندھیروں میں دھکیلنے کا الزام پیپلز پارٹی پر عائد کرتے ہیں۔ شہباز شریف نے گزشتہ کئی ماہ سے لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجاً مینار پاکستان پر خیمے میں اپنا دفتر لگا رکھا ہےـ ٹیلی ویژن پر کبھی وہ اپنی کابینہ کے ساتھ پنکھیاں جھلتے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہروں میں عوام کے ساتھ نعرے لگاتے۔ پیپلز پارٹی کے ارکان وقتاً فوقتاً شہباز شریف کی اس تنقید پر جوابی گولے داغتے رہتے ہیں اور پچھلے کچھ عرصے سے (ن) لیگ بمقابلہ پیپلزپارٹی یہ میچ اسی طرح جاری ہےـ

لوڈ شیڈنگ اور اس کے خلا احتجاج ہماری قومی زندگی میں معمول بن چکے ہیں شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئےعوام سڑکوں پر نہ نکلے ہوں توڑ پھوڑ ہنگامہ آرائی اور املاک کو نقصان نہ پہنچا ہو سڑکیں بند نہ ہوئیں ہوں اور عام آدمی پر ڈنڈے نہ برسے ہوںـ لیکن اس بار لوڈشیڈنگ کا معاملہ کچھ زیادہ گھمبیر دکھائی دے رہا ہے کیونکہ طویل عرصہ اقتدار کی چاندنی کا اکٹھے مزہ لوٹنے والے اتحادی اب آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ساتھ لوڈشیڈنگ کا ملبہ اٹھانے کو تیار نہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کو ہی لیجئیے ساڑھے چار سال بعد انھیں یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ حکومت عوام کا یہ بنیادی مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہی ہے اور اب تو اے این پی کے ارکان اس معاملے پر کھلے عام پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ چند ہی روز پہلے اے این پی کے ارکان نے لوڈشیڈنگ کے معاملے پر احتجاجاً سینٹ سے واک آوٹ بھی کیا اور بجلی کے بحران کے خاتمے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز بھی دے رکھی ہے لیکن دوسری اپوزیشن جماعتیں اس مسئلے پر اے این پی کو نمبر ٹانگنے کا موقعہ دینے والی نہیں۔ اسی لیے مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف نے آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز یہ کہہ کر مسترد کردی کہ اے این پی تو خود لوڈشیڈنگ کا تحفہ دینے والی حکومت کا حصہ ہے اس سے کسی حل کی توقع رکھنا بے سود ہےـ

حکومت کی دوسری اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم بھی ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے بجلی بحران پر کبھی کبھار پیپلز پارٹی پر دباو بڑھاتی رہتی ہے۔ پیر کو سینٹ کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے سینٹر طاہر حسین مشہدی اسی حکومت پر برس پڑے جس کا ان کی پارٹی برس ہا برس سے حصہ ہے۔ سینٹر صاحب کا کہنا تھا کہ ’حکومت سولہ بار بجلی کی قیمت تو بڑھا چکی ہے لیکن عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیاـ‘

کہتے ہیں سیاست چیز ہی ایسی ہے جس میں کوئی مستقل دوست اور دشمن نہیں ایم کیو ایم ہی نہیں پیپلزپارٹی مخالف مہم پر الیکشن لڑنے والے چوہدری برادران کو دیکہ کر بھی یہ مقولہ حقیقیت سے انتہائی قریب تر لگتا ہے۔ تمام عمر بھٹو مخالف نظریے پر سیاست کرنے والے چوہدری پرویز الہی اور چوہدری شجاعت حسین کے مطابق لوڈشیڈنگ کے ذمے دار شہباز شریف ہیں بلکہ پاور پالیٹکس کا کمال دیکھیں چوہدری شجاعت حسین تو کہتے ہیں کہ پنجاب میں سحر اور افطار کے دوران لوڈشیڈنگ شہباز شریف کے منظور نظر افسران کا شاخسانہ ہے تا کہ وفاقی حکومت کو بدنام کیا جا سکے۔

موجودہ صورتحال کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ عوام کے اس بنیادی مسئلے کے حل میں تو حکمرانوں اور عوامی نمائندوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں دلچسپی ہے تو پاور پالٹیکس میں۔ اور فی الحال تو بجلی کی اس سیاست کا حاصل حصول بھی وہی دکھائی دے رہا ہے جو پہلے والی پاور پالیٹکس کا ہوا۔ کاش کہ کوئی سیاست کے سوا عوام کے اس درد کی دوا بھی کرتا لیکن کیا کریں یہ پاور چیز ہی ایسی ہے جس نے پاکستان میں سب کو دیوانہ بنا رکھا ہے۔

اسی بارے میں