کوئٹہ: ڈاکٹروں کا بائیکاٹ، مریض پریشان

کوئٹہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر غلام رسول کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے

بلوچستان کے ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر غلام رسول کی اغواء کے خلاف دارلحکومت کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے بائیکاٹ کیا ہے جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ان کا احتجاج ڈاکٹرکی بازیابی تک جاری رہےگا۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی اپیل پر جمعرات کو کوئٹہ کے بڑے ہسپتالوں بولان میڈیکل کمپلیکس، سول ہسپتال اور فاطمہ جناح سینیٹوریم سمیت تمام سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے ہڑتال کی ہے۔

یہ ہڑتال نامور ماہرنفسیات ڈاکٹرغلام رسول کےاغواء کے خلاف کی گئی ہے جنہیں گزشتہ روز بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال سے گھر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغواء کیا تھا۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر سلطان ترین نے بی بی سی کو بتایاکہ سرکاری ہپستالوں میں مریضوں کو صرف ایمرجنسی سروسز فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمعرات کو پی ایم اے کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس میں فیصلہ ہوا ہے کہ جمعہ کے روز سے سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ ہسپتالوں میں بھی ہڑتال کی جائے گی۔ جو پروفیسر ڈاکٹرغلام رسول کی بازیابی تک جاری رہے گی۔

ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے ہسپتالو ں میں مریضوں کو شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر غلام رسول کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔

دوسری جانب صوبائی سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی نے ڈاکٹر غلام رسول کے اغواء کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ڈاکٹرغلام رسول کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔

یاد رہے کہ بائیس جولائی کو نامعلوم افراد نے بولان میڈیکل کمپلکس کے پروفیسر ڈاکٹر دین محمد مری کو مستونگ سے کوئٹہ آتے ہوئے اغواء ہوئے تھے جس پر پی ایم اے بلوچستان نے ایک ہفتے تک سرکاری اور پرائیویٹ ہپستالو ں نے بائیکاٹ تھا ڈاکٹر دین محمد بنگلزئی اکتیس جولائی کو بازیاب ہوگئے تھے۔ تاہم پولیس تاحال ڈاکٹر دین محمد بنگلزئی کے اغواء میں ملوث کسی ملزم کو گرفتار نہیں کرسکی ہے۔

ادھر کوئٹہ میں مختلف بلوچ قوم پرست سیاسی جماعتوں نے بلوچستان یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر نوشین قمبرانی کو نامعلوم افراد کی جانب سے ہراساں کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

اسی بارے میں