سوات: طالبان کی واپسی کا خوف نہیں

سوات تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سوات کے شہری علاقے مینگورہ پر کبھی شدت پسندوں کا راج تھا لیکن اب یہاں حالات معمول پر آگئے ہیں

ضلع سوات کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب انھیں شدت پسندوں کا سوات پر دوبارہ قبضہ کرنے کا کوئی خوف نہیں اور وہ پُر امید ہیں کہ اگر سکیورٹی کی صورت حال خراب بھی ہوئی تو پہلے جیسے بد ترین حالات نہیں ہوں گے۔

سوات کے شہری علاقے مینگورہ پر کبھی شدت پسندوں کا راج تھا لیکن اب یہاں کے مقامی دکانداروں کے تنظیم کے صدر عبدالرحیم کا کہنا ہے کہ حالات معمول پر آ گئے ہیں اور لوگ دوبارہ اسلام کے نام پر دھوکہ نہیں کھائیں گے انھوں نے کہا کہ’ اصل میں پہلے دین سے محبت کرنے والے ان سادہ لوگوں کو پتہ نہیں تھا کہ طالبان کا کیا پروگرام تھا۔

سادہ مقامی لوگ اور کچھ سازشی عناصر کے ساتھ مل گئے تھے اب لوگوں کو تجربہ ہوگیا ہے اور انھیں طالبانائزیشن کا اور طالبان کی دہشت گردی کا پتہ بھی چل گیا ہے میرا خیال ہے کہ اب لوگ اسلام کے نام پر دھوکہ نہیں کھائیں گے‘۔

وادی سوات پر طالبان جنگجوؤں کے قابض ہونے کے بعد خواتین کو کافی مشکلات پیش آئیں اب جبکہ صورت حال بدل گئی ہے تو خواتین نے بھی شدت پسندوں کی سوات میں دوبارہ آمد کو خارج ازمکان قرار دیا ہے۔ سوات میں تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھنے والی دلشاد بیگم کا خیال ہے کہ لوگ سمجھدار ہوگئے ہیں اور شدت پسندوں کو نہیں آنے دیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اب لوگوں میں شعور پیدا ہوگیا ہے کہ کس طرح اپنی حفاظت کرنا ہے اور کسی کی باتوں میں نہیں آنا۔

سوات کو شدت پسندوں سے خالی کروانے کے لیے جو فوج بلائی گئی تھی وہ ابھی تک موجود ہے

اب اگر فوج سوات سے نکل بھی جائے توعوام کو یقین ہے کہ وہ شدت پسندوں کو خود روک پائیں گے جب بی بی سی نے مالم جبہ سے تعلق رکھنے والے سابقہ یونین کونسل ناظم شرستان خان سے پوچھا کہ اگر فوج سوات سے نکل جائے تو کیالوگ خود طالبان جنگجووں کا مقابلہ کرسکیں گے تو انھوں نے کہا ’ ہاں بلکل کریں گے کیونکے لوگ ہوشیار ہوگئے ہیں فوج اگر چلی بھی جائے تو ہم طالبانائزیشن نہیں ہونے دیں گے لیکن فوج کویہاں دو سال تک رہنا چاہیے‘۔

سوات میں فوجی آپریشن کے بعد بہت حد تک طالبان جنگجوؤں کے کاروائیوں پر قابو پا لیا گیا ہے لیکن نشانے وار قتل کرنے کے واقعات اب بھی ہو رہے ہیں سوات کے پیشہ ور وکیل سید کریم شلمان ایڈوکیٹ سمجھتے ہیں کہ اب بھی سوات میں شدت پسند موجود ہیں انھوں نے کہا ’طالبان پہلے جیسی طاقت کے ساتھ نہیں آ سکتے لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ طالبان یہاں نہیں ہیں ابھی تک جتنے قتل ہوئے ہیں طالبان نے ان کی ذمہ داری قبول کی ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ یہاں ان بھی موجود ہیں‘۔

سوات کے بعض لوگ خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ا بھی تک طالبان رہنماؤں کو نہ تو مارا گیا ہے اور نہ پکڑا گیا تو ایسے حالات میں ان کی سوات میں واپسی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں سوات کے علاقےگلی باغ کے رہائشی عنایت اللہ کا کہنا ہے کہ ’طالبان پھر آسکتے ہیں کیونکہ نہ تو ان کے رہنماؤں کو پکڑا گیا ہے اور نہ مارا گیا ہے اور پتہ بھی نہیں کہ وہ کہاں گئے ہیں فوج ہے تو یہاں امن ہے اگر فوج چلی گئی تو طالبان پھر آ سکتے ہیں‘۔

وادی سوات میں دوبارہ واپس آنے کے لیے طالبان جنگجوؤں کی کوششیں جاری ہیں اور موقع ملنے پر وہ کارروائی بھی کرتے ہیں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دیِر کے راستے سوات میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ سوات میں افواج پاکستان کے ترجمان لیفٹنٹ کرنل عارف محمود کے مطابق مولانا فضل اللہ اور ان کے طالبان ساتھیوں نے جنوری دو ہزار بارہ سے اب تک دِیر کے عالاقے میں پچھتر حملے کیے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سوات میں طالبان کے داخلے کو روکنے کے لیے سوات کی سرحدوں اور دِیر کے علاقے تک سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اورسوات سے فوج کا مکمل انخلاء نہیں ہو گا بلکہ یہاں پر ایک فوجی چھاؤنی قائم کی جائے گی۔

طالبان جنگجوؤں نے وادی سوات میں باقاعدہ طور پر اسلامی نظام نافذ کرنے اور اپنی عملداری قائم کرنے کے لیے دو ہزار پانچ سے تحریک کا آغاز کیا اور دو ہزار آٹھ تک سوات کے بیشتر علاقوں کو کنٹرول میں لے لیا۔

دو ہزار نو کے اوائل میں طالبان جنگجوؤں اور حکومت کے درمیان امن معاہدہ ناکام ہونے کے بعد ایک فوجی آپریشن کے ذریعے طالبان جنگجوؤں کو سوات سے بے دخل کر دیا گیا۔ اگر ایک طرف طالبان جنگجو سوات میں دوبارہ واپسی کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری طرف سوات کے عوام خوف ذدہ نہیں بلکہ ایک آذاد اور پرامن زندگی کو قائم رکھنے کے لیے ذیادہ پر اعتماد دکھائی دیے۔

اسی بارے میں