بریگیڈیئر علی سمیت پانچ فوجی افسران کو سزا

بریگیڈئیر علی تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption بریگیڈیئر علی خان نے الزامات مسترد کرتے ہوئے اس مقدمے کو انتقامی کارروائی قرار دیا تھا

راولپنڈی میں قائم ایک فوجی عدالت نے پاکستانی فوج میں بغاوت پھیلانے اور سول حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے کے الزامات کے تحت پاکستانی فوج کے بریگیڈئیر علی خان سمیت پانچ فوجی افسران کو قید کی سزا سنا دی ہے۔

پاکستانی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق بریگیڈئر علی خان کو پانچ سال قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے جبکہ اس جرم میں شریک دیگر ملزمان چار افسروں کو بھی چھ ماہ سے لیکر تین برس تک کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

جن دیگر افراد کو بریگیڈیئر علی خان کا شریک جرم قرار دیا گیا ہے ان میں میجر سہیل اکبر کو تین برس، میجر جواد بصیر کو دو برس، میجر عنایت عزیز اور میجر افتخار کو ڈیڑھ برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔

پاکستانی فوج کے اعلامیے کے مطابق سزا یافتہ افراد اس سزا کے خلاف فوجی عدالت میں اپیل دائر کر سکتے ہیں۔

بریگیڈئیر علی خان کو پچھلے سال پانچ مئی کو راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق ان پر ابتدائی طور پر فوجی قیادت کو قتل کرنے، سیاسی حکومت کا تختہ الٹنے اور کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ روابط رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

ان کے خلاف فوج کے ایک میجر جنرل کی قیادت میں پچھلے سال دسمبر میں سیالکوٹ میں شروع ہونے والی کورٹ مارشل کی کارروائی قریباً چھ ماہ جاری رہنے کے بعد بیس جون دو ہزار بارہ کو راولپنڈی میں اختتام پذیر ہوئی تھی۔

اس دوران پانچ فوجی افسروں نے استغاثہ کے گواہان کے طور پر بریگیڈیئر علی کے بارے میں عدالت کو بتایا کہ ملزم نے انہیں فوجی اور سول قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسایا تھا۔

فوجی عدالت میں کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران استغاثہ نے ان میں سے بعض الزامات واپس لے لیے تھے۔

بریگیڈیئر علی خان نے اپنے اوپر عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس مقدمے کو انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔

بریگیڈئیر علی خان نے کورٹ مارشل کے سامنے اپنے بیان میں کہا تھا کہ انہیں پاکستان میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی روپوشی اور پھر ان کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی فوجی تحقیقات کرنے اور اس میں غفلت کے مرتکب فوجی افسران کے خلاف کارروائی کرنے کے مطالبے کے باعث انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔

اسی بارے میں