’ملکی مفاد کے خلاف کوئی کام نہیں کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مدد دینے اور شدت پسندوں سے رابطوں کے الزام میں گرفتار شکیل آفریدی کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستان کے مفادات کے خلاف کوئی کام نہیں کیا ہے۔

شکیل آفریدی کے بھائی اور وکلاء کے مطابق انہوں نے یہ بات جیل میں ان سے دوسری ملاقات کے دوران کہی ہے۔

یہ ملاقات سنٹرل جیل پشاور میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل کے دفتر میں تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی جس میں حکام کے مطابق شکیل آفریدی نے اپنے وکالت نامے پر دستخط کیے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بھائی جمیل آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ شکیل نے کہا کہ وہ بےگناہ ہیں اور انہوں نے ملک کے مفاد کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔

جمیل آفریدی کے مطابق ان کے بھائی اگرچہ پہلے سے کمزور ہوئے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت میں بہتری آ رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے کہ شکیل سے ان کے دو بچوں نے ملاقات کی ہے حالانکہ شکیل کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کے بچے کہاں ہیں۔

جمیل آفریدی کے بقول شکیل آفریدی نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت میں مدد دینے اور شدت پسند تنظیم اور اس کے سربراہ منگل باغ سے تعلقات کو جھوٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے جو الزامات لگائے ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

جمیل آفریدی نے کہا کہ شکیل آفریدی نے ویکسینیشن مہم کے بارے میں بتایا کہ یہ مہم اعلیٰ حکام کے کہنے پر شروع کی گئی تھی انھوں نے پاکستان کے مفاد کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔ جمیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اس مہم میں اعلیٰ حکام شامل تھے لیکن قربانی کا بکرا ڈاکٹر آفریدی کو بنا دیا گیا ہے۔

شکیل آفریدی کو خیبر ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے تینتیس سال کی سزا سنائے جانے کے بعد اب کمشنر پشاور ڈویژن کی عدالت میں اپیل کی سنوائی کے لیے تئیس اگست کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

سمیع اللہ آفریدی ایڈووکیٹ شکیل آفریدی کی وکالت کریں گے۔ سمیع اللہ آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ شکیل آفریدی پرامید ہیں کہ عدالت انھیں انصاف دلائے گی ۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے انھوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے یہ ثابت ہو کہ انھوں نے غیر ملکی ایجنسیوں کی مدد کی ہے یہ سب رپورٹ من گھڑت ہے۔

یاد رہے کچھ روز پہلے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں شکیل آفریدی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے غیر ملکی افراد سے اسلام آباد میں کن کن مقامات پر کس طرح سے ملاقاتیں کی ہیں اور اس کے عوض کتنی رقم اور منصوبوں کے لیے فنڈز حاصل کیے ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے پہلےغیر ملکی افراد نے شکیل آفریدی کو افغانستان چلے جانے کا مشورہ دیا تھا اور انھیں امریکہ کے ٹیلیفون نمبرز فراہم کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی مشکل صورتحال میں ان سے رابطہ کر سکیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کوئی پولیوویکسینیشن کی مہم نہیں تھی بلکہ ہیپاٹائٹس کے خلاف خوتین کو ویکسین دینے کی مہم تھی جس میں ایبٹ آباد کے کچھ علاقوں کا انتخاب کیا گیا تھا۔

شکیل آفریدی کو اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں دو مئی دو ہزارہ گیارہ کو امریکی فوجیوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بیس روز بعد پشاور سے گرفتار کر لیا گیا تھا جس کے بعد ان سے مسلسل تفتیش کی جاتی رہی ہے۔

تیئس مئی سن دو ہزار گیارہ کو خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ نے انھیں شدت پسندوں کے ساتھ روابط اور غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں سے تعلقات اور اطلاعات فراہم کرنے کے الزام میں تینتیس سال کی سزا سنائی تھی اور وہ تب سے سنٹرل جیل پشاور میں قید ہیں۔

جیل حکام نے بتایا کہ شکیل آفریدی تندرست ہیں لیکن جیل کے اندر اور باہر بھی انھیں خطرات لاحق ہیں جس کے لیے صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ شکیل آفریدی کو کسی اور صوبے کی جیل میں منتقل کیا جائے لیکن اس کے لیے کوئی بھی صوبہ اب تک تیار نہیں ہوا ہے۔

حکام کے مطابق صوبائی حکومت نے شکیل آفریدی سے ملاقات کی اجازت قانون کے مطابق دے رکھی ہے اور اگر ان کے بچوں نے اپنے والد سے ملاقات کی درخواست دی تو انھیں بھی قانون کے مط\بق ملاقات کی اجازت دے دی جائے گی۔

اسی بارے میں