’شدپ پسندوں کی موجودگی کے خلاف مظاہرے‘

Image caption یہ احتجاجی مظاہرے وادی نیلم کے علاقے اٹھمقام اور باڑیاں میں جمعے کی نماز کے بعد کیے گیے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب واقع وادی نیلم میں سینکڑوں افراد نے شدت پسندوں کی مبینہ موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ خطے میں امن کی خاطر وادی نیلم میں مبینہ طور پر موجود شدت پسندوں کو علاقے سے باہر نکالا جائے اور ان کی علاقے میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

گذشتہ سال ستمبر کے بعد وادی نیلم میں یہ اس نوعیت کا پہلا احتجاج ہے۔ حکام وادی نیلم میں شدت پسندوں کی موجودگی کی تردید کرتے ہیں۔

یہ احتجاجی مظاہرے وادی نیلم کے علاقے اٹھمقام اور باڑیاں میں جمعے کی نماز کے بعد کیے گیے۔

اس دوران دکانیں بند رہیں اور باڑیاں کے مقام میں مشتعل مظاہرین نے سڑک پر ٹائر بھی جلائے جس کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے ٹریفک میں خلل بھی پڑا۔

سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ اٹھمقام میں ہوا جس میں چار سے پانچ سو افراد نے شرکت کی۔ مشتعل مظاہرین نے شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف اور امن کے حق میں نعرہ لگائے۔

مظاہرے میں شریک وادی نیلم کے بار ایسوسی ایشن کے صدر میر گوہر الرحمان ایڈووکیٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ستائیس اور اٹھائیس جولائی کی رات کو وادی نیلم میں کیسریاں کے مقام سے راکٹ فائر ہوئے اور ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے کیسریاں کے متصل گاؤوں لوات اور نیلم کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ احتجاج کے لیے اٹھمقام آئے لیکن مقامی انتظامیہ کی اس یقین دہانی پر کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا تو انھوں نے احتجاج کرنے کا ارداہ ترک کیا۔

گوہر الرحمان نے کہا کہ صرف چار دن بعد ہی یکم دو اگست کی درمیانی شب کو وادی نیلم میں سیماری کے مقام سے بھی راکٹ فائر کیے گیے جس کے بعد بھارتی فوج نے فائرنگ کی اور یہی وجہ ہے کہ لوگ احتجاج پر مجبور ہوئے۔

ان کا کہنا ہے لوگ کہتے ہیں کہ رات کو موٹر سائیکل پر کچھ نامعلوم افراد آتے ہیں اور لائن آف کنٹرول کے اس پار( راکٹ) فائر کر کے فرار ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ جو بھی ہیں عسکریت پسند ہیں یا دہشت گرد انھیں پکڑا جانا چاہیے۔

وادی نیلم میں ایک پولیس افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ انھیں بھی یہ اطلاع ہے کہ نامعلوم افراد نے رات کی تاریکی میں لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب راکٹ فائر کیے جس کے بعد وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وادی نیلم کے مختلف مقامات پر پاکستان کی کالعدم تنظموں کے دفاتر موجود ہیں۔

چند روز پہلے جب وادی نیلم کے ڈپٹی کمشنر عبدالقیوم سے کیسریاں کے مبینہ واقعہ کے بارے میں جاننے کے لیے رابط کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مقامی لوگ بتا رہے تھے کہ کچھ لوگ تھے غالباً وہ مجاہدین تھے انھوں نے لائن آف کنٹرول کے اس جانب سے ( دوسری جانب) دو تین راکٹ فائر کیے لیکن پاکستان کے فوجی حکام نے رابط کرنے پر بتایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ہے بلکہ ہندوستان کی فوج نے اپنے ہی علاقے میں فائرنگ کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے مقامی معززین کو جمع کیا اور انھیں بتایا کہ ان کے خدشات کے بارے میں حکام بالا کو آگاہ کیا گیا جنھوں نے یہ کہا کہ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے اور لوگ پر امن رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی گئی اور وہ مطمئن بھی ہوئے۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر نے وادی نیلم میں شدت پسندوں کی موجودگی کی بھی تردید کی۔

ڈپٹی کمشنر کا موقف اپنی جگہ لیکن جمعہ کو وادی نیلم کے صدر مقام اٹھمقام میں ہونے والے احتجاج کے دوران ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ وادی نیلم کے مختلف مقامات پر اجنبی اور غیر ریاستی افراد رہائش پذیر ہیں جن کی خفیہ سرگرمیوں کی وجہ سے وادی نیلم کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

قرارداد میں حکومت پاکستان کے ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ ان عناصر کی کارروائیوں کو روکا جائے اور لائن آف کنٹرول پر کسی قسم کی کشیدگی اور محاز آرائی سے اجتناب کیا جائے۔

اسی بارے میں