ملتان سے پانچ شدت پسند گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ ان ملزموں سے بھاری تعداد میں بارودی مواد اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں پولیس نے تحریک طالبان سے تعلق کے الزام میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

ملتان پولیس کا کہنا ہےکہ ملزمان لاہور اور سرگودھا میں ہونے والے متعدد خودکش حملوں میں ملوث ہیں۔

ملتان میں چیف پولیس آفیسر نے عامر ذوالفقار نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پانچوں گرفتار ملزم تحریک طالبان پنجاب کے نور خان گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور بم بنانے کے ماہر ہیں۔

پولیس کے مطابق ان ملزموں کا دائرہ کار زیادہ تر جنوبی پنجاب میں پھیلا ہوا ہے اور اب یہ ملزمان شعیہ اور بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والے والے افراد اور جماعت احمدیہ کے رہنماؤں کو قتل اور ان کے بچوں کو اغوا کرنا چاہتے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان ملزموں سے بھاری تعداد میں بارودی مواد اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزموں کا تعلق تحریک طالبان پنجاب کے اسی گروہ سے جنہوں نے ون فائیوسینٹر لاہور، سری لنکن ٹیم اور سرگودھا میں پولیس ٹریننگ سینٹر اور پی اے ایف کی بس پر حملے کیے تھے اور اب یہ اسی طرز کی کارروائیاں ملتان میں کرنا چاہتے تھے لیکن پولیس نے انہیں پکڑ لیا۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق ملتان کی پولیس نے اس سے پہلے ایک ملزم عبدالغفار کو بھی گرفتار کیا تھا اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ملنے والی معلومات کی روشنی یہ گرفتاریاں ہو سکی ہیں۔

تمام ملزموں کی عمریں انیس سے تئیس برس کے درمیان ہیں اور انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ یہ پرتشدد کارروائیاں اسلام کی خاطر کرنا چاہتے تھے۔

اسی بارے میں