عدلیہ سے تنازع میں حکومت’فرنٹ فٹ‘ پر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت اور عدلیہ کی کشیدگی بظاہر تو بڑھتی نظر آتی ہے

پاکستان کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے سینیٹر فیصل رضا عابدی نے جس طرح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے کردار اور ان کے صاحبزادے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے بارے میں کھل کر باتیں کی ہیں اس سے عندیہ ملتا ہے کہ حکومت نے اب ’فرنٹ فٹ‘ پر کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

فیصل رضا عابدی نے پیپلز پارٹی سیکریٹریٹ میں جو پریس کانفرنس کی اس کی الیکٹرانک میڈیا نے اتنی کوریج نہیں کی جتنی مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیاں الزام تراشیوں میں دلچسپی لی البتہ پرنٹ میڈیا میں الیکٹرانک میڈیا کی نسبت ان کی کوریج قدرِ بہتر رہی۔

جس انداز میں انہوں نے پریس کانفرنس کے لیے پیپلز سیکرٹیریٹ کی جگہ منتخب کی اور پی ٹی وی نے ان کی کوریج کی، اس سے تو لگ رہا تھا کہ یہ ایک حکمت عملی کا حصہ ہے لیکن پیپلز پارٹی نے نوٹس لیتے ہوئے فیصل رضا عابدی سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

فیصل رضا عابدی نے اپنی پریس کانفرنس کی شروعات اس نکتے سے کی کہ عدالت سپریم ہے یا پارلیمان؟۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان ایک لانڈری ہے جو سیاستدانوں اور ججوں کے گناہوں کو صاف کرتی رہی ہے اس لیے پارلیمان سپریم ہے۔

انہوں نے چیف جسٹس پر الزام لگایا کہ ساڑھے تین برس سے وہ صرف پیپلز پارٹی کے خلاف مقدمات سن رہے ہیں۔ فیصل رضا عابدی نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا انہوں نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ ’بی ایم ڈبلیو‘ کار اور نوے کروڑ کا بینک بیلنس کہاں سے آئے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چیف جسٹس نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ ’بی ایم ڈبلیو‘ کار اور نوے کروڑ کا بینک بیلنس کہاں سے آئے: فیصل رضا عابدی

انہوں نے دو نجی بینکوں میں ارسلان افتخار کی کمپنی کے اکاؤنٹس سے ہونے والے لین دین کی تفصیل دیتے ہوئے کہا اس میں پینسٹھ کروڑ کی لین دین ہوئی۔ ان کے مطابق ’اس کمپنی اور بینک اکاؤنٹس کا پتہ چیف جسٹس کی سرکاری رہائش گاہ کا دیا ہوا ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ چیف جسٹس کو اس کا پتہ نہیں چلا‘۔

سینیٹر عابدی نے چیف جسٹس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ارسلان افتخار نے اپنے اکاؤنٹ سے پیسے برطانوی بینک بارکلیز میں اپنے ماموں کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے ہیں اور وہ بہت جلد اس کی تفصیل سامنے لائیں گے۔

انہوں نے سنہ دو ہزار کے سید ظفر علی شاہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے کے مطابق میاں نواز شریف نے چھ ارب روپے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بعد دستخِط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس چھ ارب واپس کروانے کی کارروائی نہیں کرتے لیکن ڈیڑھ ارب کے لیے ایک وزیراعظم کو گھر بھجوادیا اور دوسرے کے خلاف بھی کارروائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا:’ماضی سب کا خراب ہے ماضی کو چھوڑیں۔‘

حکومت اور عدلیہ کی کشیدگی بظاہر تو بڑھتی نظر آتی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ تادم تحریر سپریم کورٹ یا چیف جسٹس نے اس پریس کانفرنس کا نوٹس نہیں لیا لیکن حکومت نے فیصل رضا عابدی سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

اسی بارے میں