موسمی تبدیلی، خوراک کی قیمتوں میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جولائی میں خوراک کی قیمتوں میں چھ فیصد اضافہ ہوا ہے: ایف اے او

اقومِ متحدہ کی خوارک و زراعت کی عالمی تنظیم ایف اے او کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر موسمی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 2007 اور 2008 کی طرح کی خوراک کا بحران پیدا نہ ہو جائے جس سے غریب ممالک بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے۔

ایف اے او کے مطابق برازیل میں بے موسمی بارش، امریکہ میں خشک سالی hور روس میں پیداوار کی مشکلات کے باعث خوراک کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

تنظیم کے مطابق جولائی میں قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ اس سے قبل تین ماہ تک خوراک کی قیمتوں میں کمی ہوئی تھی۔

اناج اور چینی کی قیمتوں میں جولائی کے ماہ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

’قیمتوں کے اضافے اور مومسی تبدیلی سے نمٹنا ہو گا‘: سنیے

ایف اے او کا کہنا کہ جولائی میں خوراک کی قیمتوں میں چھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ میں مکئی کی قیمت میں تیئس فیصد اضافے ہونے کے باعث عالمی منڈی میں گندم کی بھی قیمتیں بڑھی ہیں۔

ایک طرف جہاں عالمی اداروں نے خوارک کی قیمتوں میں اضافے پر خدشات کا اظہار کیا ہے، تو دوسری جانب پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے سے ملک پر بھی بُرا اثر پڑے گا۔

پاکستان کے ماہرِ زراعت و معیشت اور ماحولیات کہتے ہیں کہ اگر حکومت ِ پاکستان جلد اقدامات نہیں کرتی تو ممکنہ عالمی خوراک کے بحران کے باعث پاکستان میں بھی مصنوعی قلت کی صورتِ حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

ماحول اور موسم کے امور کے وفاقی مشیر ڈاکٹر قمرزمان چودھری نے حکومتِ پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ اگر عالمی بحران کے اثر کو کم کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو انتخابی سال میں حکومت کو مشکل ہو جائے۔

متعلقہ سرکاری اداروں کو لکھے گئے خط میں ڈاکٹر قمرزمان نے بتایا ہے کہ امریکہ، روس، برازیل اور بھارت میں اس سال زرعی پیداوار کم رہی ہے اور پاکستان میں گندم کی پیداوار کے ذخائر ہونے کے باوجود اس سے مصنوعی قلت کی صورتِ حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

’جس وقت یہ بحران پوری دنیا میں ہو گا اور ہمارے ہمسائے ملک میں بھی قیمتیں بہت بڑھیں گی اور قلت ہو گی تو ہمارے ملک میں سمگلنگ زیادہ ہو جاتی ہے اور لوگ ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں۔‘

ماہرِ زراعت و معیشت ڈاکٹر سہیل ملک جہانگیر کہتے ہیں کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان گندم درآمد کرتا ہے اور اسی لیے صارفین کو مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں۔

’ہم تقریباً دس لاکھ سے ڈھائی لاکھ ٹن گندم درآمد کرتے ہیں۔ اوپر سے ہم نے کوئی تین سال قبل گندم کی قیمتِ خرید میں دوگنا اضافہ کر دیا تھا اور اسکا اثر نمایاں ہے۔ جب عالمی منڈیوں میں قلت ہوتی ہے تو قیمتیں بڑھتی ہیں اور اس سے یہاں پر غربت اور قیمتوں پر اثر پڑھتا ہے۔‘

دوسری جانب بھارت کے ساتھ طے ہونے والے معاہدے کے تحت پاکستان ہندوستان سے پھل اور سبزی بھی درآمد کرتا ہے۔ ڈاکٹر قمر زمان کہتے ہیں کہ بھارت کے شمال اور شمال مغرب میں بارشیں تقریباً چھتیس فیصد بڑھی ہیں اور وہاں خشک سالی کا اعلان کردیا گیا ہے۔

ڈاکٹر قمرزمان کا کہنا ہے کہ نہ صرف پاکستان کو عالمی خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے نمٹنا ہو گا، بلکہ ملک موسمی تبدیلیوں کا بھی شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں اس سال مون سون بارشیں معمول سے کم ہوئی ہیں اور پچھلے سالوں کے مقابلے میں پانی کے ذخائر میں سطح بہت کم ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے ربیع کی کاشت کے لیے پانی ناکافی ہو سکتا ہے۔ تو گندم کی پیداوار کچھ حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث گزشتہ آٹھ سے دس برسوں میں پاکستان اور بھارت میں مون سون بارشوں کا نظام غیر متوقع ہو گیا ہے اور درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے ڈاکٹر قمرزمان نے حکومت کو تجاویز پیش کی ہیں۔ ان تجاویز میں اناج کے ذخائر کا بہتر طریقے سے استعمال اور گندم کی سمگلنگ پر قابو پانا ہے۔

تاہم، ڈاکٹر سہیل کہتے ہیں کہ پاکستان کو کیونکہ فوری مسائل کا سامنا ہے اس لیے پانی کی قلت اور ماحولیاتی تبدیلی حکومتِ پاکستان کی ترجیح نہیں ہے۔

’اس وقت بے روزگاری اور افراطِ زر کی سطح بہت بلند ہے۔ یہ سنگین معاشی بحران کی علامت ہیں جس سے فوری طور پر نمٹنا ہے۔ جو مسائل سامنے ہیں، انہیں تو ہم نے حل نہیں کیا تو ماحولیاتی تبدیلی، جو واضح اور نمایاں مسئلہ نہیں ہے، اس کا حل تلاش کرنا دور کی بات ہے۔‘

اسی بارے میں