’بجلی کی تقسیم خرچ کی بنیاد پر ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی انرجی کانفرنس میں وفاقی حکومت سے کہا گیا ہے کہ بجلی کی پیدوار اور تقسیم کا نظام صوبوں کے حوالے کیا جائے اور صوبوں کے درمیان بجلی کی تقسیم کا فارمولا بجلی کے خرچ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

خبر پختونخواہ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے بائیکاٹ کے بعد عوامی نیشنل پارٹی نے آل پارٹیز کانفرنس کو انرجی کانفرنس میں تبدیل کردیا ہے۔

وزیر اعلی ہاؤس میں منعقدہ کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ حزب اقتدار میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی، تاجر اور صنعتکاروں نے شرکت کی ہے۔ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے اس کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ ان سیاسی جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ نواز، جمعیت علماء اسلام (ف)، جماعت اسلامی، پاکستان مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی شیرپاؤ نمایاں ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کانفرنس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ چیمبر آف کامرس اور انرجی کے حوالے سے ماہرین نے شرکت کی ہے جس میں یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بجلی کی پیداوار اور تقسیم کا مرکزیت کا نظام ناکام ہو چکا ہے اس لیے اب اسے صوبوں کے حوالے کر دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ اپنے استعمال سے کہیں زیادہ بجلی پیدا کر رہا ہے اور یہ پن بجلی ہے جو انتہائی سستی ہے لیکن مرکزی نظام کی وجہ سے صوبے کو ایک تو لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے اور دوسرا مہنگی بجلی خرید رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انیس سے تہتر سے پہلے بھی بجلی کی پیداوار اور تقسیم کا نظام صوبوں کے پاس ہی تھا۔

اس کانفرنس میں وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی کی اس تجویز کی تائد کی گئی ہے کہ صوبوں کے درمیان بجلی کی تقسیم کا فارمولا بجلی کے خرچ کی بنیاد پر ہونا چاہیے کیونکہ موجودہ نظام سے چھوٹے صوبوں کو نقصان ہو رہا ہے۔

افراسیاب خٹک کے مطابق اس کانفرنس میں ماہرین نے گیس فیلڈ میں خارج ہونے والی گیس سے بجلی پیدا کرنے منصوبے کی تجویز دی ہے جسے وسط مدتی منصوبے کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک گیس فیلڈ سے دو سو میگا واٹ بجلی پیدا ہو سکے گی اور اس وقت خیبر پختونخواہ میں چودہ گیس فیلڈز ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کے بائیکاٹ پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی مسئلہ بنا رہے ہیں حالانکہ عوامی نشینل پارٹی سن دو ہزار گیارہ میں دو مرتبہ بجلی کے معاملے پر کانفرنس طلب کی تھیں جس میں اپوزیشن جماعتوں نے شرکت کی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی چار سال اقتدار میں رہنے کے باوجود لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل نہیں کر پائی اور اب انتخابات سے پہلے ووٹرز کو ایک دکھاوے کے لیے کانفرنس منعقد کر رہی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں اس وقت بارہ سے اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ پشاور شہر کے سب سے بڑے رہائشی علاقے حیات آبار یونیورسٹی ٹاؤن اور گلبہار میں پندرہ گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ صوبہ کے مختلف شہروں میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں لیکن حکام کی جانب سے کوئی ریلیف نہیں دیا جا رہا۔

اسی بارے میں