قتل کی ایف آئی آر آج بھی سربمہر ہے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نو اگست نذیر عباسی کی برسی کا دن ہے

وہ کیسا نوجوان تھا؟ کیسا انقلابی اور طالب علم رہنما! نہ اس نے کو‏ئی گولی چلائی، نہ بم پھوڑا ، نہ اس نے ملک توڑنے کی بات کی نہ وہ اس پر یقین رکھتا تھا، نہ اس نے کسی مخالف طالب علم تنظیم کی کوئي شیٹ پھاڑی اور اس کے کسی کارکن پر تشدد کیا۔

وہ خود تشدد کی موت مارا گیا۔ اس کی سب نے ٹھکائی لگآئي ۔ کبھی اسے بیلچہ بردار خاکساروں نے مارا تو کبھی جیئے سندھ والوں نے اس کی پٹائی کی۔ آخر کار اسے پاکستان کی فوجی ایجنسی آئي ایس آئی کے کرنل امتیاز بلا نے مبینہ طور پر تشدد کر کے مار ڈالا اور اس کا مارا جانا گویا کرنل بلا کے سینے پر تمغوں میں شامل ہے۔

نذیر عباسی ایک عجیب نوجوان اور انقلابی تھا۔ ایسے جیسے انقلابی ناولوں کے کردار ہوا کرتے ہیں۔ انقلاب کے رومان کے نشے میں ٹن کردار۔ بالوں کو اوپر کی طرف کنگھی کیے ہوئے، پرکشش مونچھیں اور شہادت کی انگلی اٹھا کر بات کرنے والے۔ انقلابی پارٹیوں کے لیے ایسے کردار ان کے پوسٹر بوائے ہوا کرتے ہیں۔

یہ کتنی عجبیب بات ہے کہ اس کا قاتل سینہ ٹھونک کر ٹی وی پر کہہ رہا ہوتا ہے ہاں نذیر عباسی کو اس نے مارا کیونکہ بقول کرنل بلا وہ کمیونسٹ تھا۔ اگر کوئی کمیونسٹ بھی تھا تو اس کا قتل حلال ہے، قومی ثواب ہے اور ملکی دفاعی پالسی کا حصہ۔ جیسے اس ملک میں شیعوں کا، احمدیوں کا، عیسائیوں اور ہندوئوں کا، ہزاروں کا ۔ بھٹوؤں کا۔

سچ تو یہ ہے کہ وہ سائیکلو سٹائل پرنٹنگ مشین پر پمفلٹ چھاپنے اور لکھنے کے الزام میں مارا گیا جسے فوجی آمر ضیاء الحق کے دور میں یا اس سے پہلے اور بعد میں ’تخریبی مواد‘ بتایا گیا۔ وہ ’تخریبی مواد‘ جو کہ وہ کراچی کورنگی اور لانڈھی کی مزدور بستیوں، لاہور کے والٹن، پٹ فیڈر بلوچستان اور پختونخوا کے ہشت نگر کے کسانوں میں بانٹا کرتا تھا۔

وہ تمام ملک کے طالب علموں کو اس وقت ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے نکلا تھا جب فوجی آمر نے ایک صوبے کے لوگوں کو دوسرے صوبوں کے لوگوں تک تو کیا ایک شہر کی خبر دوسرے گاؤں اور شہر پہچنے پر پابندی لگائی ہوئی تھی کہ لوگ آپس میں ملنے نہ پائيں، جاننے نہ پائيں کہ کہیں اس کے خلاف کوئی بھونچال کھڑا نہ ہوجائے۔

جب ہر پختون کا تصورڈرگ مافیا، بلوچ غدار، سندھی ڈاکو، پنجابی غاصب، مہاجر دہشتگرد کے طور پر ابھارا گیا تھا۔ نذیر عباسی ان سب کو ایک جگہ پر ایک ہی چھت اور آسمان تلے فوجی آمر کے خلاف اکھٹا کرنا چاہتا تھا۔ وہ ملک بھر کے شہروں میں جمہوری قوتوں کی کسان، مزدور، طلبہ رابطہ کمیٹیاں منظم کر کانفرنسیں کروانے نکلا تھا ۔

وہ نذیر عباسی کو گسٹاپو کی طرح ڈھونڈھتے رہے اور نذیر عباسی کےٹو کی دھن میں مگن بہروپ کیے اپنے کام کو جاری رکھتا آیا۔ اس آدمی کو روسی اور بھارتی ایجنٹ کہا گیا کہ جس کی جیب میں جب پانچ روپے بھی ہوتے تو وہ اپنے ساتھیوں کو کہتا آج عیاشی کا دن ہے گھنٹہ گھر پر نہاری کھائيں گے۔ وہ جس کی پوری بارات بغیر ٹکٹ پکڑی گئی صرف دولہا اور دلہن کے پاس ٹکٹ تھا۔

وہ سدا کا کنگلا۔ دبلا پتلا لیکن نہایت ہی بہادر اور سمارٹ آدمی تھا۔ کوئٹہ کے بدنام زمانہ ریاستی عقوبت گھر کلی کمیپ میں ایف آئی یو کے تفتیشی مرکز میں اس نے اپنے نوجوان ساتھیوں کو تشدد سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ’ہاں یہ سارے پمفلٹ میں نے لکھے اور چھاپے ہیں۔‘ جب اس نے اپنے جلاد صفت تفتیش کاروں سے کہا ہاں میرا نام نذیر عباسی ہے لیکن دوسری مرتبہ تم مجھ سے نذیر عباسی نام اگلوا کر دکھاو۔

نذیر عباسی کی ایف آئي آر نہ صرف تاریخ میں درج ہے بلکہ پولیس کے پاس اس کی اہلیہ حمیدہ گانگھرو (جو کہ خود اس کی طرح کا ایک انقلابی کردار ہے۔ انہوں نے اپن بیٹی کا نام زرقا رکھا) کی مدعیت بھی اس کے قاتل کرنل اور اس پر تشدد کرنے والے فوجی اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوکر تاحال سربمہر ہے۔ اسے سخی حسن کے قبرستان میں ’لاوارث‘ دفن کر دیا گیا تھا۔

وہ حکومت جو بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکی وہ نذیر عباسی کے قاتلوں کو کیوں کر پہنچا سکتی ہے؟

اسی بارے میں