قطرے پلانے کے باوجود پولیو کے کیس

پولیو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بچوں کا بار بار بیمار ہونا اور مختلف قسم کے انفیکشن ہونے سے وائرس پولیو سے بچاو کی ویکسین کو بے اثر کر دیتا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور چارسدہ میں ایسے دو بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جنھیں بار بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔

چند روز پہلے بھی چار میں سے دو ایسے بچے تھے جو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لے چکے تھے۔ پاکستان میں اس سال اب تک انتیس بچے پولیو وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

ضلع چارسدہ کی سفینہ کی عمر انیس ماہ ہے اور انھیں سات مرتبہ پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔ آٹھ ماہ کا بسم اللہ عمر پشاور کے مضافاتی علاقے متنی کا رہائشی بچہ ہے جو چھ مرتبہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے لے چکا ہے لیکن اس کے باوجود ان دونوں بچوں میں پولیو کے پی ون وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔

چند روز پہلے خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں سے چار بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو ئی تھی جن میں سے دو بچے ایسے ہیں جنھوں نے پولیو سے بچاؤ کے قطرے بار بار لیے تھے۔

پشاور سے نامہ نگارعزیزاللہ خان کا کہنا ہے کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے بار بار لینے کے باوجود پولیو کے وائرس کے حملے سے والدین اور عوام میں تشویش پائی جاتی ہے لیکن انسداد پولیو کی مہم کے سربراہ ڈاکٹر جانباز آفریدی کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ایسا ہو جاتا ہے جس کی مختلف وجوہات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کے قطرے لینے والے بچوں پر پولیو وائرس کا حملہ شدید نہیں ہوتا بلکہ قطرے نہ لینے والے بچوں پر پولیو وائرس کا حملہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بچوں کا بار بار بیمار ہونا اور مختلف قسم کے انفیکشن ہونے سے وائرس پولیو سے بچاؤ کی ویکسین کو بے اثر کر دیتا ہے جس سے بچوں پر پولیو کے وائرس کا حملہ ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر جانباز آفریدی کا کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ بچوں کو خارج المعیاد ویکسین دی گئی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں ایک سٹور سے خارج المعیاد ویکسین کا علم ہوا تھا جسے تلف کر دیا گیا ہے اور متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔

پاکستان میں پولیو کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے ترجمان ڈاکٹر محمد رفیق سے جب رابطہ قائم کیا تو ان کا کہنا تھا کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے سو فیصد بچوں کو دینا انتہائی ضروری ہے اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پولیو کا مکمل خاتمہ مشکل ہو سکتا ہے اور اس کے لیے والدین اور معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے مشکلات ضرور ہیں لیکن اس قدر نہیں کہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہ پلائے جا سکیں۔ انھوں نے کہا کہ بھارت ، افریقہ اور سری لنکا میں اس سے زیادہ مشکل حالات میں پولیو کے مرض پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے۔

ڈاکٹر رفیق کے بقول ایسا نہیں ہے کہ پولیو سے بچاؤ کی ویکسین بے اثر ثابت ہو رہی ہے بلکہ اس کی وجوہات میں بچوں مے مدافعتی نظام میں کمزوری اور دست کی بیماریاں شامل ہیں جس سے بچے کے جسم میں پولیو سے بچاؤ کی ویکسین ضائع ہو جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کے حالات حوصلہ افزا ہیں کیونکہ گزشتہ سال اس عرصے میں ستر سے زیادہ پولیو کے کیس سامنے آئے تھے اور اس سال اب تک صرف انتیس بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جو پچھلے سال کی نسبت کافی کم ہے۔

اسی بارے میں