خواہش بجلی کی، دلچسپی ڈیزل میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈاکٹر مبارک نے بتایا کہ اس گیس سے ڈیزل، امونیا گیس اور میتھین سمیت ایک درجن دیگر مصنوعات بھی بنائی جا سکتی ہیں

پاکستان میں توانائی کے بحران کا ایک حل تھر کے کوئلے سے بجلی بنانا بتایا جاتا ہے لیکن اس میں اہم سوال یہ ہے کہ حکومت اس معاملے میں کتنی سنجیدہ ہے۔

بدھ کو وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے صوبہ سندھ کے علاقے تھر میں زیر زمین کوئلے سے گیس بنا کر بجلی بنانے کے منصوبے کا باضابطہ افتتاح کیا۔

ڈاکٹر ثمر مبارک نے تین سالوں میں بجلی بنانے کا معاہدہ کیا ہے، جس میں سے دو سال گیس بنانے میں لگ چکے ہیں، انہیں اس تجربے کے لیےکوئلے کے ذخائر کا ایک بلاک دیا گیا تھا۔

تھر کول فیلڈ ایریا میں سرکاری دستاویزات کے مطابق چار کمپنیاں کام کر رہی ہیں، مگر زمینی حقائق کے مطابق صرف ڈاکٹر ثمر مبارک کی ’یو سی جی‘ کمپنی کا ہی کام نظر آتا ہے۔

ڈاکٹر ثمر مبارک نے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو بریفنگ میں کوئلے سے بننے والی اس گیس کے فوائد سے آگاہ کیا۔ بقول ایک سینیئر صحافی کے ڈاکٹر نے حکومت کو اربوں روپے کمانے کے گُن بتائے۔

ڈاکٹر مبارک نے بتایا کہ اس گیس سے ڈیزل، امونیا گیس اور میتھین سمیت ایک درجن دیگر مصنوعات بھی بنائی جا سکتی ہیں۔

’ایک کیوبک فٹ کوئلے سے ایک بیرل ڈیزل بن سکتا ہے اور کئی سرمایہ کار اس میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں‘۔

سندھ میں کوئلے میں سرمایہ کاری کے لیے چین اور دیگر غیر ملکی کمپنیاں وفاقی حکومت کی جانب سے ضمانتیں چاہتی ہیں۔ ڈاکٹر ثمر مبارک نے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور ان کے ساتھ موجود وفاقی وزرا کو بتایا کہ ڈیزل کے منصوبے میں سرمایہ کاروں کو کوئی ضمانت نہیں چاہیے۔ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ پچاس فیصد ڈیزل مقامی مارکیٹ اور پچاس فیصد بیرون ملک فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیر اعظم اور وفاقی وزرا نے ڈاکٹر ثمر کی حوصلہ افزائی کی اور ان سے پوچھا کہ کتنے عرصے میں ڈیزل بنا سکتے ہیں، تو انہوں نے دو سال کا عرصہ بتایا۔

اس موقع پر ڈاکٹر ثمر مبارک نے فنڈز کے اجرا میں تاخیر کی شکایت کی اور بتایا کہ جتنے جلد فنڈز فراہم ہوں گے وہ بجلی کی پیداوار پر کام کر سکیں گے۔

پہلے مرحلے میں آٹھ میگاواٹ بجلی بنائی جائے گی جو منصوبے کی رہائشی کالونی کے لیے مختص ہوگی، اس کے بعد باقی نوے میگاواٹ پر کام ہوگا۔

یاد رہے کہ اس منصوبے کے لیے رقم سندھ کی حکومت فراہم کر رہی ہے، جبکہ اینگرو کمپنی کے ساتھ صوبائی حکومت کی شراکت داری ہے۔

سندھ حکومت نے وزیر اعظم سے چار بنیادی مطالبات کیے، جن میں غیر ملکی کمپنیوں کے لیے وفاق کی ضمانت، کوئلے سے بننے والی بجلی کے فی یونٹ نرخ کا تعین، تھر سے مٹیاری تک ٹرانسمیشن لائن اور ریلوے لائن بچھانے کے مطالبات شامل تھے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اس منصوبے پر سست رفتاری کا اعتراف کیا اور ساتھ میں وزیر اعظم کو سندھی میں مخاطب ہو کر کہا کہ ’سائیں خالی ہاتھوں سے کچھ نہ ہوگا، وفاق بھی کچھ نہ کچھ سرمایہ لگائے‘۔

وزیر اعظم راجہ اشرف نے کسی بھی مطالبے کا کوئی جواب نہیں دیا اور صرف اتنا کہا کہ قومی مالیاتی ایوارڈ کے بعد صوبوں کے پاس بھی کافی فنڈز موجود ہیں۔

اینگرو پاکستان کے چیف آپریٹنگ افسر نے کوئلے سے بجلی بنانے کا ایک فوری حل پیش کیا۔ ان کی تجویز تھی کہ فوری طور پر ریلوے لائن بچھائی جائے اور جام شورو تھرمل پاور پلانٹ کو کوئلے پر منتقل کر دیا جائے۔ وفاقی وزیر نوید قمر نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایسا ممکن نہیں۔

چین کی کمپنی سنو سندھ ریسورس کے حکام نے وفاقی حکومت سے ضمانت کے ساتھ سکیورٹی خدشات کا بھی اظہار کیا۔ حکام نے بتایا کہ کراچی میں چین کے سفارتخانے کے قریب دھماکے کے بعد کافی خدشات پائے جاتے ہیں، اور حکومت چینی سرمایہ کاروں کو خصوصی سکیورٹی فراہم کرے۔

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اپنی تقاریر میں کبھی تھر کو دبئی تو کبھی مستقبل کا یورپ بنانے کی باتیں کر رہے تھے۔ صحرائی ٹیلوں کے درمیان واقعے اس منصوبے کے برابر میں اقلیتی بھیل برادری کا گاؤں بھانبھیو بھیل واقع ہے، جس کے بڑے اور بچے دور سے یہ جشن کا سماں دیکھ رہے تھے، کیونکہ انہیں اس ’ عوامی جلسے‘میں آنے کی اجازت نہ تھی۔

اسی بارے میں