بلوچستان: خاموش میڈیا کسی کے حق میں نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ عمل نیا نہیں بلکہ گزشتہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے جاری ہے

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بلوچستان سے اس کی آواز چھینی جا رہی ہے۔ اسے گونگا بنانے کی بھرپور کوشش ہو رہی ہے، اسے زبردستی خاموش کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل نیا نہیں بلکہ گزشتہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ خوف بڑھ رہا ہے آزادیاں ختم کی جا رہی ہیں۔ آخری مرتبہ کب وہاں کی کسی اہم شخصیت کی بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی کوئی خبر قومی یا مقامی میڈیا میں بطور ’ایکس کلوسیو خبر‘ سامنے آئی؟ کیا کسی کو کچھ یاد ہے؟ یا پھر وہاں سب فرشتے بستے ہیں؟

کیا سب صوبائی وزراء، اعلی سرکاری افسران یا بااختیار قبائلی شخصیات نے غیرقانونی یا غیراخلاقی سرگرمیوں سے توبہ کر لی ہے۔ ریکارڈ ترقیاتی فنڈز ملنے کے باوجود کیا وہاں کوئی کرپشن نہیں ہو رہی؟ کیا وہاں کوئی سرکاری ادارہ اختیارات سے تجاوز نہیں کر رہا؟ ماسوائے خروٹ آباد کے واقعے کی جس کا رپورٹر آج بھی پناہ کی تلاش میں ہے، کیا کسی ادارے کا نام ثبوت کے ساتھ نام بےنقاب ہوسکا ہے؟ خیر ہو سپریم کورٹ کی جس کی وجہ سے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر سماعت کے دوران فرنٹئر کور اور خفیہ ایجنسیوں کی کھچائی ہو جاتی ہے ورنہ میڈیا کی حد تک خاموشی ہی ہے۔ خبر جیب میں ہوتی ہے لیکن منفی ردعمل کے خوف سے وہ جیب میں ہی رہ جاتی ہے۔ تبصرے اور لگے لپٹے الفاظ میں بات شاید ہو رہی ہو لیکن کھل کر بات کرنے کی اسطاعت ختم ہوچکی ہے۔

سرکار کے علاوہ دوسری جانب مزاحمت کاروں اور علیحدگی پسندوں کے کیا ارادے ہیں؟ ان کے رازوں سے پردا اٹھانے کی کوئی خبر کبھی کوئٹہ سے آتے نہیں دیکھی گئی ہے۔ ان کی سرگرمیوں کا احتساب آج کل کے جنگی حالات میں شاید سب بھول گئے ہیں۔ کیا ان کا ہر حملہ جائز اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا انسانی حقوق کے معیار پر پورا اترتا ہے؟ درجنوں بلوچ شدت پسند تنظیمیں بلوچ سیاستدانوں کی طرح آپس میں اتفاق و اتحاد پیدا نہیں کرسکیں ہیں تو دوسروں سے وہ گلے شکوے کیوں کر رہی ہیں؟ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم وہ اتفاق رائے کے لیے کیا کر رہی ہیں؟ ایسے سوالات میڈیا نے کب سے اٹھانے بند کر دیے ہیں۔

اب بچی کھچی رپورٹنگ پر بھی قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔ اس پر بلوچستان کے خضدار شہر کے پریس کلب کے سربراہ محمد خان ساسولی کے الفاظ ذہن میں گونج رہے ہیں۔ ’اگر ہم قوم پرستوں کی کوریج کرتے ہیں تو حکومت دھمکیاں دیتی ہے اور اگر ہم حکومت کی رپورٹنگ کرتے ہیں تو ہمیں خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ کا نام دے دیا جاتا ہے۔’ محمد ساسولی کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ ساسولی اور ان جیسے درجنوں دیگر صحافیوں کے قتل اور باقی رہ جانے والے صحافیوں کو مختلف عناصر کی جانب سے مسلسل دھمکیاں انہیں ایک ہی تلخ پیغام دے رہی ہیں کہ وہ جو تھوڑا بہت بول رہے ہیں وہ بھی بند کر دیں۔ مکمل خاموشی کی چادر اوڑھ لیں۔

مقامی میڈیا کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی میڈیا کے بھی ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے بھی خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صحافیوں کو پھر سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اس کا فائدہ کس کو ہوگا۔ ان صحافیوں کو متنازعہ بنا کر شکاری جانوروں کی کچھار میں گوشت کے ایک لوتھڑے کی طرح پھینکا جا رہا ہے۔ پھر کس نے مارا، کس نے دیکھا اور کس نے سزا پائی۔ لگتا ہے کہ کسی کو بلوچستان میں آزاد میڈیا کی نہیں محض نوٹس بورڈز کی ضرورت ہے جہاں وہ فریقین کے دعووں کو من و عن لگا دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں اور فوج نے مل کر اسے صحافیوں کے لیے واقعی میں علاقہ غیر بنا دیا ہے

قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں اور فوج نے مل کر اسے صحافیوں کے لیے واقعی میں علاقہ غیر بنا دیا ہے۔ وہاں وہ جو چاہے کرتے پھریں کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ اس سے دونوں بظاہر خوش ہیں۔ شاید یہی صورتحال وہاں کے فریقین کے لیے بہتر ہے۔ یہی فارمولہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بلوچستان میں بھی نافذ کرنے کی کوشش طویل عرصے سے کی جا رہی ہے۔ اب تک بلوچستان کے کئی بہادر صحافی اس کے خلاف مزاحمت میں مصروف ہیں، لیکن آخر کب تک؟

بلوچ لیبریشن فرنٹ نامی تنظیم کی جانب سے گزشتہ دنوں بی بی سی کے کوئٹہ میں نمائندہ ایوب ترین کو دھمکی اسے سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔ بلوچستان میں گزشتے کئی برسوں کے نامساعد حالات کے باوجود بی بی سی نے غیرجانبدارانہ کوریج جاری رکھی ہوئی تھی۔ بلوچستان کے مسئلے کے تمام پہلوؤں کو جتنا صحافتی اختیار میں ممکن تفصیل سے کور کرنے کی کوشش وقتا فوقتا کی جاتی رہی ہے۔ کسی کو کوریج کی کمی تو کسی کو زیادتی کی شکایت ہے۔ یہ گلہ نیا نہیں۔ تاہم اپنے وسائل اور عالمی و قومی خبروں کے ایجنڈے کو مدنظر رکھ کر متوازن کوریج کی جستجو جاری رہتی ہے۔

ایسے میں بی بی سی کو ریڈیو پاکستان کے برابر قرار دینے پر افسوس کے سوا کچھ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مخالفین کم کوریج کے علاوہ بی بی سی کی بدیانتی کا ایک ثبوت اس کی جانب سے آزادی پسند رہنماؤں کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ قرار دیتے ہیں۔ لیکن جب ٹویٹر پر کئی روز پہلے اس بابت الزام عائد کرنے والے سے تفصیل مانگی کہ ایسا کب ہوا تو اس کا جواب آج تک موصول نہیں ہوسکا ہے۔ مبہم الزامات ابہام کو دور کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوتے ہیں۔

الزامات اپنی جگہ سوال پاکستانی ذرائع ابلاغ کے کردار سے متعلق ہے۔ کیا میڈیا ملک توڑنے والوں کا ساتھ دے یا پھر آزادی کی بات کرنے والوں کو اِغوا کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے والوں کو نظر انداز کر دے؟ یہ دونوں کام میڈیا نہ کرسکتا ہے اور نہ کر رہا ہے۔ دستیاب ماحول میں وہ بلوچوں سے ہونے والی ناانصافیوں، ان کی حق تلفی، آزادی کی بات کرنے والوں کی جائز شکایات پر مسلسل روشنی ڈال رہا ہے اور روزانہ ہوئے حملوں کی آزاد یا سرکاری ذرائع سے تصدیق کے بعد خبر باقاعدگی سے نشر یا شائع تو کر رہا ہے، لیکن اس سے زیادہ شاید کچھ نہیں۔

دوسری جانب وہ بلوچوں سے ناانصافیوں اور ان کی لاشیں پھینکے والوں کی مذمت، اس غیرانسانی فعل کے پیچھے عناصر کو ثبوتوں کے ساتھ بےنقاب بھی کرتا رہے گا لیکن اس سے زیادہ کی توقع کرنا شاید اس کے دائرہ کار، مینڈیٹ یا وسائل سے ناشناسائی ہی قرار دی جاسکتی ہے اور کچھ نہیں۔ بلوچستان کے مزاحمت کاروں کو بظاہر وسیع علاقہ اور محدود وسائل کی وجہ سے اپنی سی مشکلات درپیش ہیں۔ ایسے میں وہ اپنا کام میڈیا کے حوالے کرنے کے بارے میں نہ ہی سوچیں تو بہتر ہے۔میڈیا فریقین کی جاری میڈیا وار میں ان کا آلہ کار ہرگز نہیں بن سکتا۔ ہم سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ فریق کسی صورت نہیں بن سکتا۔

میڈیا کوریج کی کمی بیشی کی شکایت کرنے والوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے یہ اعداوشمار ہی کافی ہونے چاہیے کہ سال دو ہزار آٹھ سے اب تک چودہ صحافی بلوچستان کی کوریج کی پاداش میں اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ بعض صحافی تو محض ان کی خبر پر غلط شہہ سرخی کی وجہ سے آج ہم میں نہیں ہیں۔ اس میں ان کا ہرگز کوئی قصور نہیں تھا۔ کسی کی غلطی کا خمیازہ کسی اور کو بھگتنا پڑا۔ کئی مقامی صحافی علاقہ تو کیا ملک بھی چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ آزاد میڈیا ہی ہے جو حقوق کی آواز زوردار طریقے سے اٹھا سکتا ہے اور ناانصافیاں بےنقاب کرسکتا ہے

مزاحمت کاروں کے ساتھ ساتھ حکومتی ادارے اور اہلکار بھی میڈیا سے اپنی ناراضگی کا اظہار وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔ وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی اور مشیر داخلہ رحمان ملک صوبے کی صورتحال کو ’سب اچھا‘ قرار دے کر میڈیا کی صوبے پر مسلسل توجہ کو ایک بین الاقوامی سازش قرار دیتے ہیں جبکہ فرنٹئر کور ملشیا کو شکایت ہے کہ میڈیا محض خون خرابے کو خبر بناتا ہے ترقیاتی منصوبوں سے مقامی آبادی کی زندگی میں آنے والی بظاہر مثبت تبدیلی اسے دکھائی نہیں دیتی ہے۔

اس قسم کے مسلسل دباؤ کی وجہ سے خدشہ ہے کہ بلوچستان میڈیا کی مکمل ’خاموشی‘ کوئی زیاد دور نہیں۔ اگر بلوچستان میں اصل صورتحال واقعی فریقین دنیا کو دکھانے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں صحافیوں کو اس خاموشی سے بچانا ہوگا۔ جب تک صحافیوں کو بےخوف و خطر حالات و واقعات کی جانچ پڑتال کی اجازت نہیں ہوگی، خود جا کر اپنی نظروں سے حالات دیکھ کر انہیں بلاخوف رپورٹ کرنے کی آزادی نہیں ہوگی بلوچستان کے حالات میں بہتری خام خیالی ہی رہے گی۔ صحافیوں سے پاک بلوچستان شاید کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ یہ آزاد میڈیا ہی ہے جو حقوق کی آواز زوردار طریقے سے اٹھا سکتا ہے اور ناانصافیاں بےنقاب کرسکتا ہے۔

اسی بارے میں