سندھ: موروں کے بیماری پر قابو پا لیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکام کے مطابق گزشتہ دنوں اس بیماری سے اڑتیس مور ہلاک ہوئے ہیں

حکام کے مطابق پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرائی ضلع تھرپارکر میں خوبصورت پرندوں، موروں میں پائی جانے والی رانی کھیت نامی بیماری پر قابو پا لیا گیا ہے۔

حکام یہ بھی تسلیم کرتے ہیں موروں میں پائی جانے والی بیماری کے خاتمے میں جنگلی حیات کے محکمے کے اقدامات سے زیادہ قدرت کے کرشمےکا عمل دخل ہے اور حالیہ بارشیں اس کا اہم سبب بنی ہیں۔

پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے بھارتی سرحد سے ملحقہ ضلع تھرپار کر میں خوبصورت مانے جانے والے پرندوں موروں میں اٹھارہ جولائی کو ایک بیماری پھیلی جس سے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دو سو سے زائد مور مر گئے۔

لیکن صوبہ سندھ کے محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کے ایڈیشنل سیکرٹری اعجاز نظامانی کہتے ہیں کہ مقامی ذرائع ابلاغ نے مرنے والے موروں کی تعداد بہت زیادہ بتائی ہے۔

ان کے بقول ان کے محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق اڑتیس مور ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جنگلی جیوت کے عالمی ادارے ’ڈبلیو ڈبلیو ایف‘ کے مطابق مرنے والے موروں کی تعداد انسٹھ ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق تھرپارکر میں موروں کی کل تعداد ستر ہزار کے قریب ہے۔

ان کے بقول قدرتی عمل ہے کہ ہر سال سات سے نو ہزار موروں کا اضافہ ہوتا ہے اور اوسطاً ایک مور پرندے کی عمر پانچ سے چھ برس ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محکمے کے جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور قدرتی طور پر تھر پارکر میں ہونے والی حالیہ بارشوں سے موروں میں پھیلنے والی بیماری رانی کھیت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

صوبہ سندھ کے کنزرویٹر سعید اختر بلوچ بھی ان کی تائید کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ رانی کھیت نامی وائرل مرغیوں میں پائی جاتی ہے اور مرغیوں سے موروں میں یہ وائرس پھیلا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے پولٹری لیبارٹری سے ٹیسٹ کروائے اور اس کے بعد ان کے محکمے نے ویکسینیشن شروع کی۔

لیکن وہ بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ موروں میں پھیلنے والی بیماری ان کے محکمے کے اقدامات سے زیادہ قدرتی طور پر حال ہی میں تھرپارکر میں ہونے والی بارشوں سے ختم ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تھرپار کر میں پانی تالابوں میں جمع کیا جاتا ہے اور کچھ عرصے تک جب بارش نہیں ہوتی تو ان تالابوں میں ’فنگس‘ وغیر ہو جاتا ہے جس سے موروں کو ’انفیکشن‘ ہوتا ہے۔ ان کے بقول ایسی صورتحال میں زیادہ تر بڑی عمر والے مور مر جاتے ہیں جن کا مناعی نظام یا معدافتی نظام کمزور ہوتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ تھرپارکر ضلع کی چار تحصیلیں ہیں جس میں سب سے زیادہ مور ننگر پارکر میں پائے جاتے ہیں اور وہاں سےایک بھی مور مرنے کی اطلاع نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مور انسان دوست ’فرینڈلی‘ بن جانے والا پرندہ ہے اور تھر پار کر میں کچھ ہندو خاندان ایسے ہیں جو پرندوں کو دانا ڈالنا اور ان کی حفاظت کرنے کو مذہبی طور پر بہتر سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے موروں کی بڑی تعداد ان کے گاوں کے آس پاس رہتی ہے۔

سندھ کے ریگستان جسے سندھی زبان میں تھر کہتے ہیں، مقامی لوگوں کے مطابق مور پرندے تھر کے قدرتی حسن کا ایک اہم جز ہیں۔

اسی بارے میں