’پارلیمان عوام کی آواز ہے جسے دبایا نہیں جا سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پارلیمان کو نئی قسم کے حملوں سے بچانا ضروری ہے: صدر زرداری

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ملک کی پارلیمان عوام کی آواز ہے جسے نہ تو دبایا جا سکتا ہے اور نہ دبایا جا سکے گا۔

انہوں نے یہ بات پاکستان کے چھیاسٹھویں یومِ آزادی کے سلسلے میں پیر اور منگل کی درمیانی شب ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

صدر زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کئی خطرات درپیش ہیں اور جہاں دہشتگرد ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں وہیں ہمیں درپیش ایک بڑا مسئلہ شدت پسند ذہنیت کو شکست دینے کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس کے لیے ہمیں جمہوریت کا دفاع اور برداشت، مذاکرے اور مباحثے کے عمل کی ترویج کرنا ہوگی‘۔

بیان کے مطابق صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پارلیمان کو بھی نئے قسم کے حملوں کا سامنا ہے جس سے اس کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔

صدر نے کہا کہ ’ہمیں ملک کی منتخب پارلیمان کے وقار کا تحفظ کرنا ہوگا۔ پارلیمان عوام کی آواز ہے۔ اس آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی یہ خاموش ہوگی‘۔

بیان کے مطابق اس موقع پر صدر نے ملک کے قبائلی علاقوں میں آئندہ برس سے بلدیاتی نظام متعارف کروانے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ یہ قبائلی عوام کی قومی دھارے میں شمولیت کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے۔

صدرِ پاکستان کا کہنا تھا کہ آئندہ برس قبائلی علاقوں میں مقامی حکومتیں کام کا آغاز کریں گی اور یہ اقدام وہاں کے عوام کی خواہشات اور روایات کے عین مطابق ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکومت پر وہاں کے عوام کا قرض تھا اور ملک میں امن و استحکام کے قیام اور اس خطے کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ضروری تھا۔

صدارتی ترجمان کے مطابق مقامی حکومتوں کا نظام قبائلی علاقہ جات میں بتدریج نافذ کیا جائے گا اور اس سلسلے میں مسودۂ قانون میں واضح کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے رکنِ قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی نے حال ہی میں بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں اس نظام پر تفصیلی روشنی ڈالی تھی اور کہا تھا کہ طالبان کو اس نظام کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ’حکومت جلد بازی میں کوئی کام نہیں کرنا چاہتی، بلدیاتی نظام کو بتدریج نافذ کیا جائے گا، پہلے ان علاقوں سے شروع کریں گے جہاں طالبان کا کوئی عمل دخل نہ ہو، ہم کسی سطح پر بھی طالبان کو اس عمل میں شامل نہیں کریں گے‘۔

اسی بارے میں