بلوچستان: حفاظتی انتظامات میں آزادی کی تقریبات

آخری وقت اشاعت:  منگل 14 اگست 2012 ,‭ 13:15 GMT 18:15 PST

جشن آزادی کے حوالے سے سب سے بڑی تقریب بلوچستان اسمبلی کے سبزہ زار پر منعقد ہوئی

پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے بڑے شہروں میں جشن آزادی کی تقریبات سخت حفاظتی انتظامات میں منعقد ہوئیں تاہم بلوچ آزادی پسندوں کی جانب سے چودہ اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منایاگیا اور بلوچ شہروں میں شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی اور موبائل سروس بند رہی۔

جشن آزادی کے حوالے سے سب سے بڑی تقریب بلوچستان اسمبلی کے سبزہ زار پر منعقد ہوئی۔

تقریب میں انسپکٹرجنرل فرنٹیئرکور عبیداللہ خان خٹک، صوبائی وزرا، اعلی سول فوجی حکام کے علاوہ سکول کے بچوں اور بچیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر سپیکر بلوچستان اسمبلی سردار اسلم بھوتانی نے پرچم کشائی کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار اسلم بھوتانی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کے عوام میں پائی جانے والی احساس محرومی کو دور کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں جس میں آغاز حقوق بلوچستان، این ایف سی ایوارڈ کا اجراء اور صوبائی حکومت کو اختیارات دینا شامل ہیں۔

"وفاقی حکومت نے بلوچستان کے عوام میں پائی جانے والی احساس محرومی کو دور کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں جس میں آغاز حقوق بلوچستان، این ایف سی ایوارڈ کا اجراء اور صوبائی حکومت کو اختیارات دینا شامل ہیں۔"

سپیکر بلوچستان اسمبلی سردار اسلم بھوتانی

ادھرگورنر ہاؤس کوئٹہ میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس اہلکاروں میں صدارتی ایوارڈز تقسیم کیے ان میں سے چھ ایوارڈز ان پولیس اہلکاروں کے ورثاء نے وصول کیے جودہشت گردی کے مختلف واقعات میں ہلاک ہوئے تھے۔

دریں اثناء بلوچستان کے پرفضاء سیاحتی مقام وادی زیارت میں بھی جشن آزادی کے حوالے سے تقریب منعقدہوئی جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

قائداعظم ریذیڈنسی میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں خان آف قلات کے صاحبزادے پرنس محمد خان احمدزئی مہمان خصوصی تھے جنہوں نے تقریب کا آغاز پرچم کشائی سے کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد خان احمدزئی نے کہا کہ پاکستان بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے اور موجودہ حالات میں ہم سب کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

بلوچستان میں ہونے والی جشن آزادی کی ان تقریبات کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئےتھے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے پولیس اور فرنٹیرکور کے ساتھ ساتھ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بھی شہر کی فضائی نگرانی کی گئی تاہم زیادہ ترشہروں نے خوف کے باعث آزادی کا دن گھروں میں ٹی وی پر جشن آزادی کے تقریبات دیکھ کرگزارا۔

سکیورٹی کے سخت انتظامات

بلوچستان میں ہونے والی جشن آزادی کی ان تقریبات کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئےتھے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے پولیس اور فرنٹیرکور کے ساتھ ساتھ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بھی شہر کی فضائی نگرانی کی گئی

واضح رہے کہ تیرہ اگست کی رات کوئٹہ کے جناح ٹاؤن میں اس وقت ایک ہوٹل کے قریب ریمورٹ کنٹرول بم دھماکہ ہوا جب وہاں جشن آزادی کے حوالے سے پاکستانی ترانوں اور گانوں پر لوگ ناچ رہے تھے، اس دھماکے میں پانچ افراد زخمی ہوئے۔

جشن آزادی کی تقریبات کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مختلف موبائل کمپنیوں نے منگل کی صبح سے کوئٹہ اور صوبے کے دیگر شورش زدہ علاقوں میں موبائل سروس بند رکھی جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ موبائل سروس بند کرنے سے قبل حکومت اور موبائل کمپنوں کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیاگیا تھا۔

دوسری جانب بلوچ نیشنل فرنٹ نے پاکستان کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ بی این ایف کی اپیل پر کوئٹہ شہر کے بعض حصوں کے علاوہ تربت، گوادر، پنجگور، خضدار اور دیگر بڑے شہروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی جس کے باعث دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے۔

یاد رہے کہ بلوچ نیشنل فرنٹ میں شامل جماعتوں نے خبردار کیا تھا کہ عوام جشن آزادی کی تقریبات میں شرکت نہ کریں اور نہ ہی قومی ترانے، گاڑیوں اور گھروں پر پاکستانی پرچم لہرایں بصورت دیگر وہ اپنے نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔