’گیلانی نے عدالت میں پیش ہوکر غلطی کی‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 10:40 GMT 15:40 PST

نظرثانی کیس کی سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے

پاکستان کے اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ اب تک جتنے بھی وزراء اعظم نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیا وہ توہین عدالت کے خوف سے کیا ہے۔

یہ بات اٹارنی جنرل نے این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس پر عمل درآمد سے متعلق عدالت کے پانچ رکنی بینچ کے بارہ جولائی کےفیصلے کے نظرثانی کی اپیل میں دلائل دیتے ہوئے کہی۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس مقدمے میں تین بار عدالت میں پیش ہوکر غلطی کی اور اگر وہ اُن کی جگہ پر ہوتے تو کبھی بھی عدالت میں پیش نہ ہوتے۔

یاد رہے کہ بارہ جولائی کو سپریم کورٹ نے نئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو سوئس حکام کو خط لکھنے کے بارے میں کہا تھا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کسی سمری یا ایڈوائس کے بغیر سوئس حکام کو خط لکھیں۔

اُنہوں نے کہا کہ عدالت کو ایسے الفاظ میں ہدایت دینے کا اختیار نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عدالت اپنے موقف پر غور کرے تو ملک جمہود سے نکل سکتا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے نظرثانی کی درخواست کی سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے کبھی نہیں کہا کہ وزیر اعظم خود خط لکھیں بلکہ یہ کہا ہےکہ وہ حکومت میں سے کسی کو بھی سوئس حکام کو خط لکھنے کا مجاذ بنا دیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ وزیر اعظم اپنے ہاتھوں کو تکلیف دیں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کوئی تارا مسیح نہیں ہیں کہ ادھر عدالتی حکم آیا اور اُس پر فوری عمل درآمد کریں۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر نئے وزیر اعظم کے ساتھ بھی یوسف رضا گیلانی جیسا سلوک کیا گیا تو یہ ایک اور عدالتی حادثہ ہوگا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ عدالت کسی قتل کے مقدمے میں پھانسی کا حکم تو دے سکتی لیکن مجرم کے گلے میں پھندا نہیں ڈال سکتی۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ اگر اپنے حکم نامے میں یہ لکھ دے کہ اُس خط میں صدر آصف علی زرداری کا نام نہیں ہوگا تو وہ اس معاملے پر حکومت سے مشاورت کر سکتے ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ اُس خط میں صدر مملکت کا نام ہو بلکہ عدالت نے یہ کہا ہے کہ حکومت سوئس حکام کو خط لکھے کہ سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم نے سوئس حکام کو جو وہاں کی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمہ ختم کرنے سے متعلق خط لکھا تھا اُس کو غیر موثر سمجھا جائے۔

عدالتی حکم

" وزیر اعظم کوئی تارا مسیح نہیں ہیں کہ ادھر عدالتی حکم آیا اور اُس پر فوری عمل درآمد کریں "

اٹارنی جنرل

اُنہوں نے کہا کہ ان مقدمات پر اگر کوئی فیصلہ آتا ہے اور چھ کروڑ ڈالر سے زائد رقم برآمد ہوتی ہے تو حکومت پاکستان اُس کی دعویدار ہے۔

سوئس عدالتوں میں صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کی سماعت ہو رہی تھی جن پر کارروائی این آر او کے تحت روک دی گئی تھی تاہم سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ نے اس آرڈیننس کو کالعدم قرار دیا تھا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وزارت قانون نے تیئس اپریل کو رائے دی تھی کہ ملک قیوم نے بطور اٹارنی جنرل سوئس حکام کو خط لکھا تھا وہ قانون کے مطابق ہے۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ملک قیوم کے خلاف ریفرنس بھیجنے کے لیے نیب کو احکامات جاری نہیں کرسکتے۔

بینچ میں موجود جسٹس سرمد جلال عثمانی کا کہنا تھا کہ وزارت قانون نے یہ رائے تین ماہ قبل دی تھی جبکہ وفاق نے سپریم کورٹ کے بارہ جولائی کے حکم کو چیلنج کیا ہے۔

نظرثانی کیس کی سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کر دی گئی اور نظر ثانی کی اس درخواست پر اُسی روز فیصلہ آنے کا امکان ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔