جنوبی وزیرستان: گومل زام ڈیم کا عملہ اغواء

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 16 اگست 2012 ,‭ 11:28 GMT 16:28 PST
وزیرستان

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں زیرِ تعمیر گومل زام ڈیم کے سات انجنیئرز اور ملازمین کے علاوہ ایک فوجی کو نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا ہے۔

تمام افراد ڈیم کے مقام کھجوری کچھ سے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کی جانب آ رہے تھے۔

گومل زام ڈیم کے ایک سینیئر انجینیئر محمد توقیر نے بتایا کہ تمام آٹھ افراد کسی حفاظتی انتظام کے بغیر کل صبح چھ بجے کھجوری کچھ سے روانہ ہوئے۔

تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد نیل کچھ کے مقام پر نامعلوم افراد انہیں اغواء کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔

اغواء ہونے والے افراد میں ڈیم پر کام کرنے والے ایس ڈی او، دو سب انجینیئر، ایک مکینکل فٹر، ڈرائیور، خانساماں، سینیٹری ورکر اور ایک سادہ لباس میں ملبوس فوجی شامل ہیں۔

محمد توقیر کے مطابق جس مقام سے ان افراد کو اغواء کیا گیا ہے وہاں سے گاڑی برآمد ہو گئی ہے جس کا ریڈی ایٹر لیک ہے اور ڈیزل ختم ہے۔ بظاہر ان تمام ملازمین کو اغواء کار ان کے سامان سمیت نامعلوم مقام کی جانب پیدل لے گئے ہیں۔ مغویوں میں سے چار کا تعلق پشاور اور اس کے قریبی علاقوں سے بتایا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اب تک اغوا کاروں نے ان سے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی مطالبات پیش کیے ہیں۔

مغوی ملازمین اپنی پندرہ روزہ ڈیوٹی مکمل کرکے عید منانے کے لیے اپنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ روانگی کے لیے حفاظتی عملے کو بھی ساتھ لے کر نہیں گئے۔ ان ملازمین کو ایف ڈبلیو او یعنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن تحفظ فراہم کرتی ہے۔

ادھر تحریک طالبان پاکستان نے گومل ذام ڈیم کے اہلکاروں کے اغواء کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغویوں میں تین فوجیوں سمیت ڈیم کے سات اہلکار شامل ہیں البتہ ان میں کوئی چینی انجینیئر نہیں ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس علاقے میں بڑی تعداد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکیاں قائم کی گئی ہیں اور کوئی ایک ماہ قبل مبینہ شدت پسندوں نے خاصہ دار چیک پوسٹ پر یہ پیغام دیا تھا کہ وہ یہ علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں۔

جنوبی وزیرستان ایجنسی میں کھجوری کچھ کے مقام پر دریائے گومل پر ڈیم بنایا جا رہا ہے جس کی تعمیر چین کی کمپنی سرانجام دے رہی ہے۔ چین کی کمپنی نے عید کی چھٹیوں کے لیے اٹھارہ تاریخ سے کام بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس ڈیم کی تعمیر پر کام کرنے والے تین چینی انجنیئروں کو سن دو ہزار چار میں نامعلوم شدت پسندوں نے اغوا کر لیا تھا جن میں سے ایک کو شدت پسندوں نے ہلاک کر دیا تھا۔ چین کی کمپنی نے اس واقعے کے بعد تعمیر کا کام روک دیا تھا اور بعد میں حکومت پاکستان کی یقین دہانیوں اور فوج کی جانب سے سیکیورٹی فراہم کرنے پر کام شروع کیا گیا تھا۔

ان دنوں یہ کہا جا تا تھا کہ ڈیم سن دو ہزار چھ تک کام شروع کر دے گا لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ یہ ڈیم اس سال کے آخر تک سترہ اعشاریہ چار میگا واٹ بجلی کی پیداوار شروع کر دے گا۔

حکام نے اب تک فیصلہ نہیں کیا کہ آیا حالیہ اغوا کے واقعے کے بعد ملازمین کام جاری رکھیں یا ایک مرتبہ پھر ڈیم پر کام روک دیا جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔