بابو سر روڈ حملہ، تحقیقاتی ٹیم تشکیل

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 17 اگست 2012 ,‭ 10:23 GMT 15:23 PST

اپریل میں بھی گلگت بلتستان کے شہر چلاس میں ایک مُسافر گاڑی پر حملے میں نو افراد ہلاک ہوگئے تھے جس پر علاقے میں احتجاج بھی کیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے بابو سر روڈ پر شعیہ برادری سے تعلق رکھنے والے اُنیس افراد کی جمعرات کے روز ہلاکت کے واقعہ کی تحققیات کے لیے ایک مشترکہ تحققیاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔

اُدھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ لوگوں کو اُن کے مذہنی اعقاد کی بنا پر قتل نہیں کیا جانا چاہیے۔

ایس ایس پی انوسٹیگیشن الیاس خان کی سربراہی میں قائم ہونے والی اس تحقیقاتی ٹیم نے گلگت بلتستان، مانسہرہ اور پشاور کی جیلوں میں فرقہ وارارانہ اور شدت پسندی کے واقعات میں گرفتار ہونے والے افراد کا ریکارڈ طلب کر کے چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔

اس تحققیاتی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ گلگت جیل میں شعیہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملوں کے الزام میں گرفتار چھ افراد کو اس مقدمے کی پوچھ گچھ کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق ان افراد میں دو وہ ملزمان بھی شامل ہیں جو کچھ عرصہ قبل چلاس میں گاڑیوں سے اُتار کر شعیہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہلاک کرنے کے مقدمے میں ملوث ہیں۔

اہلکار کے مطابق ٹیم کے کچھ ارکان کو پشاور جیل بھیجا گیا ہے جہاں پر وہ اُن ملزموں سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں جو چند سال قبل امام بارہ گاہ میں عزاداری پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث تھے۔

گلگت بلتسان پولیس کے سربراہ عثمان زکریا نے پولیس کو مانسہرہ پولیس کے ساتھ اس معاملے میں ہر ممکن تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اس واقعہ میں بچ جانے والے افراد کو باحفاظت اُن کے گھروں کو پہنچا دیا گیا ہے اور پولیس نے ان افراد سے ملزموں کے حلیے بھی دریافت کیے ہیں جن کے خاکے جلد ہی جاری کر دیے جائیں گے۔

مانسہرہ پولیس کے سربراہ شیر اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ کی تحققیات کی مد میں جرائم پیشہ افراد کے کوائف بھی اکھٹے کیے جارہے ہیں جو کہ رہزانی اور ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی تحققیات کی مد میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی اور نہ ہی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اُنیس افراد کے پوسٹ مارٹم کے بعد ان افراد کی لاشیں اُن کے ورثاء کے حوالے کردی گئی ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد پر کلاشنکوف سے فائرنگ کی گئی اور زیادہ تر افراد کے سینوں اور سر پر گولیوں کے نشانات ہیں۔

مقامی پولیس نے اس واقعہ کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔