شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں چھ افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 18 اگست 2012 ,‭ 10:48 GMT 15:48 PST

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں عیدالفطر کے موقع پر امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں چھ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں جن کا تعلق حافظ گل بہادر گروپ سے بتایا جاتا ہے۔

شمالی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈرون حملہ صدر مقام میرانشاہ سے ساٹھ کلومیٹر دور تحصیل شوال کے علاقے شوئی دار غر میں ایک مکان پر کیا گیا۔ اس حملے کے نتیجے میں چھ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں اس ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ ڈرون حملے ملکی سالمیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

واضح رہے کہ جمعہ کو وزیرستان میں چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہونے کے بعد ہفتے کی عید کا اعلان کیا گیا تھا۔

اہلکار کے مطابق امریکی جاسوس طیارے سے دو میزائل ایک مکان پر داغے گئے جس سے مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور مکان کے اندر کھڑی وہ گاڑی جس میں جنگجو آئے تھے مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔

جس جگہ ڈرون حملہ کیا گیا ہے یہ پاک افغان سرحد سے متصل شمالی اور جنوبی وزیرستان کا سرحدی علاقہ ہے۔ اس علاقے میں گھنا جنگل ہے جس میں حقانی نیٹ ورک اور پنجابی طالبان کے کئی ٹھکانے موجود ہیں۔

"نشانہ بننے والے مکان میں پہلے سے حافظ گل بہادر گروپ کے کچھ جنگجو قیام پذیر تھے اور ان کے ساتھ عید الفطر منانے کے لیے یہ جنگجو ایک گاڑی میں میرانشاہ کے علاقے سے آئے تھے۔"

مقامی شخص

ایک مقامی شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے سے چند منٹ پہلے حافظ گل بہادر گروپ کے جنگجوؤں کی ایک گاڑی اسی مکان میں داخل ہوئی جس پر بعد میں ڈرون حملہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ یہ مکان پہلے سے ان جنگجوؤں کے زیر استعمال تھا لیکن عید کی وجہ سے مکان میں زیادہ افراد نہیں تھے۔

مقامی شخص کے مطابق نشانہ بننے والے مکان میں پہلے سے حافظ گل بہادر گروپ کے کچھ جنگجو قیام پذیر تھے اور ان کے ساتھ عید الفطر منانے کے لیے یہ جنگجو ایک گاڑی میں میرانشاہ کے علاقے سے آئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا ہلاک ہونے والوں میں کوئی اہم شحص شامل ہے یا نہیں البتہ دھماکے کے بعد مقامی لوگوں نے تمام لاشوں کو ملبے سے نکال لیا جو مکمل طور جلھس چکیں تھیں۔

واضح رہے کہ یہ ٹھکانے خصوصاً افغانستان آمدورفت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ شمالی، جنوبی وزیرستان اور افغانستان کے درمیان نقل و حرکت کے لیے بھی یہی راستہ استعمال ہوتا ہے۔

اسی طرح ماضی میں بھی اس علاقے میں ڈرون حملے ہوچکے ہیں جن میں حافظ گل بہادر گروپ کے علاوہ حقانی نیٹ ورک اور پنجابی طالبان بھی مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔