موبائل سروس بند نہیں کی جا رہی: رحمن ملک

آخری وقت اشاعت:  پير 20 اگست 2012 ,‭ 20:00 GMT 01:00 PST

پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ اسلام ْآباد میں موبائل فون سروس بند نہیں کی جا رہی تاہم اس میں چند گھنوں کے لیے تعطل ضرور آیا ہے۔

اتوار کی رات اسلام آباد جناح سپر مارکیٹ میں سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موبائل فون پر پابندی پیر کی صبح دس بجے تک ہو گی۔ انہوں نے شہریوں سے گزارش کی کہ وہ چندگھنٹوں کی تکلیف برداشت کر لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں موبائل فون سروس بند کی نہیں کی جا رہی تاہم اگر ضروری ہوا تو اسلام آباد میں بھی موبائل فون سروس معطل کر دی جائے گی۔

رحمن ملک نے بتایا کہ ملتان کے کچھ حصہ جبکہ لاہور میں موبائل فون سروس اتوار کی شام ساڑھے سات سے بند ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موبائل فون کے ذریعے خود کش حملے روکنے کے لیے کراچی میں بھی موبائل فون سروس پر پابندی عائد کی گئی۔

وزیرِ داخلہ کے مطابق حکومت کے لیے سب سے زیادہ اہم بات شہریوں کی حفاظت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ملک میں خود کش حملے بند کر کے اب موبائل فون کے ذریعے بم دھماکے کر رہے ہیں۔

رحمن ملک نے بتایا کہ کامرہ ائیر بیس کے حملہ آوروں کے بارے میں اسی فیصد پیش رفت مکمل ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔