’پوری ایک نسل تعلیم سے محروم ہوگئی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  پير 20 اگست 2012 ,‭ 15:35 GMT 20:35 PST
پشاور میں حملے کا شکار ہونے والے ایک سکول کا منظر

پشاور میں حملے کا شکار ہونے والے ایک سکول کا منظر

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرکاری تعلیمی اداروں اور نجی سکولوں پر جاری حملوں کی وجہ سے لاکھوں طلباء و طالبات تعلیم کی حصول سے محروم ہوچکے ہیں جبکہ ماہرین تعلیم یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ایسے حالات میں تعلیم محروم یہ طالب علم باآسانی شدت پسندوں کے ہتھے بھی چڑھ سکتے ہیں۔

قبائلی علاقے برسوں سے پسماندگی کا شکار ہیں جسکی وجہ سے ان علاقوں میں تعلیم کی شرح انتہائی کم رہی ہے۔ بالخصوص قبائلی ایجنسیوں میں خواتین کی تعلیم نہ ہونے کی برابر ہے۔ آج بھی فاٹا میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں لڑکیوں میں تعلیم کی شرح ایک یا دو فیصد ہے جبکہ بعض علاقوں میں یہ شرح اس سے بھی کم یعنی صفر فیصد تک بتائی جاتی ہے۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں آجکل شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہوگا جہاں سرکاری یا نجی سکول شدت پسندوں کے حملوں میں نشانہ نہ بنے ہوں۔ وزیرستان سے لے کر باجوڑ اور مہمند ایجنسی تک تمام سات قبائلی علاقے اور فرنٹیر ریجنز میں سرکاری سکول پچھلے پانچ چھ سالوں سے شدت پسندوں کے حملوں کی زد میں ہیں۔ ان میں زیادہ تر واقعات میں سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا جاتا رہا ہے یا ان کو نذرآتش کر کے تباہ کیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں سب سے پہلے درہ آدم خیل میں لڑکیوں کے سکولوں پر حملوں کا آغاز ہوا۔ تاہم رفتہ رفتہ یہ واقعات دیگر قبائلی مقامات تک پھیلتےگئے اور آج حالات یہ ہیں کہ کوئی قبائلی علاقہ ان حملوں سے محفوظ نہیں۔

طالبان اور شدت پسند تنظیمیں الزام لگاتی ہیں کہ پاکستان کے سرکاری سکول اور تعلیمی ادارے مغربی تعلیم کی ترویج کر رہے ہیں جو ان کے بقول غیر اسلامی ہے اور اسی وجہ سے وہ ان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

"ایک ایسا علاقہ جہاں کی آبادی تیس پینتیس لاکھ کے قریب ہو اور وہاں پانچ سات لاکھ طلباء سکول سے باہر ہوں اور ان علاقوں میں شدت پسندوں کی سرگرمیاں بھی عروج پر ہوں، تو ایسے میں اگر یہ طالب علم کسی نہ کسی صورت ان تنظیموں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں تو ملک و قوم کے لیے یہ کتنی خطرناک بات ہوگی"

پروفیسر ڈاکٹر خادم حسین

باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاونڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ فاٹا میں تو پہلے ہی سے تعلیم کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی اور جو رہی سہی کسر تھی وہ حالیہ حملوں نے پوری کر دی ہے۔

ان کے بقول ’ایک ایسا علاقہ جہاں کی آبادی تیس پینتیس لاکھ کے قریب ہو اور وہاں پانچ سات لاکھ طلباء سکول سے باہر ہوں اور ان علاقوں میں شدت پسندوں کی سرگرمیاں بھی عروج پر ہوں، تو ایسے میں اگر یہ طالب علم کسی نہ کسی صورت ان تنظیموں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں تو ملک و قوم کے لیے یہ کتنی خطرناک بات ہوگی۔‘

خادم حیسن کے مطابق جو علاقے تعلیم کی نعمت سے محروم ہوں وہاں کے نوجوانوں کو کوئی بھی اپنے مقاصد کے لیے باآسانی استعمال کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں سکولوں پر حملوں کے باعث پوری ایک نسل تعلیم سے محروم ہوگئی ہے لیکن حکومت اور بین الاقوامی امدادی اداروں کی طرف سے اس کی بحالی کے سلسلے میں تاحال قابل ذکر اقدامات دیکھنے کو نہیں مل رہے۔ ان کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جنگ سے متاثرہ ان علاقوں میں تباہ شدہ سکولوں کے جلد بحال ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا جس سے ہر لحاظ سے نقصان ہوگا۔

ادھر دوسری طرف متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ تعلیمی اداروں کی بحالی کا کام انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ فاٹا کے بیشتر علاقوں میں حکومتی عمل داری بھی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے حکام کے لیے ان علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کا کام ایک مستقل مسئلہ بنا ہوا ہے۔

پشاور میں گزشتہ بارہ سالوں سے ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک صحافی اور تحقیق کار شیر عالم شنواری کا کہنا ہے کہ فاٹا میں زیادہ تر حملے لڑکیوں کے سکولوں پر کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے بعض علاقوں میں لڑکیوں کی شرح تعلیم صفر تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی تحقیق کے مطابق خیبر ایجنسی میں لڑکیوں کی شرح تعلیم صفر فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ لڑکوں کی تین فیصد تک بتائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’تعلیمی اداروں پر حملوں سے جتنا بڑا نقصان ہوا ہے حکومت کی طرف سے اتنی سنجیدگی نہیں دیکھی جا رہی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’جو سکول تباہ ہوگئے ہیں وہ تو پتہ نہیں کب بحال ہوں گے لیکن جو باقی ماندہ سکول ہیں ان کو بھی تاحال کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا۔‘

قبائلی علاقوں میں کئی سالوں سے سکولوں پر جاری حملوں کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ یہ حملے مسلسل جاری ہیں۔ تاہم حکومت کی طرف سے ان حملوں کو روکنے کے لیے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔