’سکولوں کی بحالی میں وقت لگے گا‘

آخری وقت اشاعت:  پير 20 اگست 2012 ,‭ 15:30 GMT 20:30 PST
ایک تباہ شدہ سکول

شدت پسند سکولوں کو آسان ٹارگٹ سمجھتے ہیں

وفاقی وزیر قبائلی علاقہ جات اور سرحدی امور انجینیئر شوکت اللہ خان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں تعلیمی ادارے شدت پسندوں کے لیے آسان نشانہ ہوتے ہیں اس لیے اگر انھیں بحال کردیا جائے تو دوبارہ ان پر حملے ہو سکتے ہیں اس لیے انتہائی احتیاط سے انھیں دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے لیکن اب حکومت کی یہ پالیسی ہے کہ پرائمری سکول کی پانچ جماعتوں کے بچوں کے لیے دو کمروں کے سکول نہیں بلکہ پانچ کمروں کے سکول ہوں گے۔

پاکستان کی سات قبائلی ایجنسیوں اور ملاکنڈ ڈویژن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں کوئی چار سو پچاسی سکول تباہ کیے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق فوجی آپریشن اور شدت پسندوں کی کارروائیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں تعلیمی ادارے بند بھی ہیں جس وجہ سے ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ طلبا اور طالبات تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں

وفاقی وزیر قبائلی امور اور سرحدی علاقے جات انجینیئر شوکت اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تباہ شدہ سکولوں کو اس لیے بھی جلدی بحال نہیں کیا جا رہا کیونکہ یہ شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے لیے آسان نشانہ یا سوفٹ ٹارگٹ ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب تک مکمل امن قائم نہیں ہو جاتا یا سیکیورٹی فورسز وہ علاقے شدت پسندوں سے مکمل طور پر صاف نہیں کر دیتے تب تک وہاں تعمیر نو کا کام شروع نہیں کیا جا سکتا۔

قبائلی علاقوں میں سکول

قبائلی علاقوں میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کوئی ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ پرائمری سکول ہیں۔ مڈل سکول، ہائی سکول اور ہائیر سیکنڈری سکول اس کے علاوہ ہیں۔ ان سکولوں میں کچھ تباہ تو کچھ حالات کی خرابی کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔

انجینیئر شوکت اللہ ان کے مطابق اگر ان تعلیمی اداروں کو بحال یا تعمیر کر دیا جائے تو انھیں دوبارہ نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور اس طریقے سے وہ سرکاری فنڈز ضائع نہیں کر سکتے۔

انھوں نے کہا کہ جن علاقوں میں فوجی آپریشن کیے گئے وہاں بحال کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسہ میں باجوڑ ایجنسی میں واپس آکر آباد ہونے والے افراد میں امدادی اداروں اور دیگر ممالک کی مدد سے دو ارب روپے تقسیم کیے جاچکے ہیں جبکہ بعض اداروں کی مدد سے جن افراد کے مکان تباہ ہوئے ان کے لیے ماڈل شیلٹرز بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

باجوڑ ایجنسی میں سرکاری ذرائع کے مطابق آئی ڈی پیز کی واپسی کے بعد پینتیس ہزار سے زیادہ بچوں کو سکولوں میں داخلے دیے گئے ہیں لیکن ایک اندازے کے مطابق اسی ہزار سے زیادہ بچے اب بھی تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں۔

انجینیئر شوکت اللہ خان نے کہا کہ متاثرین کی بحالی کے بعد تعلیمی سلسلہ مکمل طور پر شروع ہو سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں تعلیم کی کوئی آئیڈیل صورتحال نہیں ہے اس لیے سکولوں میں بچوں کو خوراک دینے کے منصوبے پر بھی کام ہو رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے سکولوں میں آ سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ابتدائی سطح پر متاثرین کو نقد رقم اور ان کے مکان تعمیر کیے جا رہے ہیں جس کے بعد سکولوں کی بحالی کا سلسلہ مکمل کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت قبائلی علاقوں میں توجہ دے رہی ہے اور نئی پالیسی کے تحت اب قبائلی علاقوں کے پرائمری سکول دو کمروں پر نہیں بلکہ پانچ کمروں پر مشتمل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک پانچ جماعتوں کے بچوں کے لیے دو کمرے کے سکول ہوتے تھے ۔ ایسے سکولوں میں دو جماعتوں کے بچے تو کمروں میں اور باقی بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرتے تھے۔

قبائلی علاقوں میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کوئی ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ پرائمری سکول ہیں۔ مڈل سکول، ہائی سکول اور ہائیر سیکنڈری سکول اس کے علاوہ ہیں۔ ان سکولوں میں کچھ تباہ تو کچھ حالات کی خرابی کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ حکومت نے اب تک ان سکولوں کی بحالی اور قبائلی علاقوں میں کوئی مکمل یا واضح پالیسی کا اعلان نہیں کیا ہے۔ پشاور میں قائم فاٹا سیکریٹیریٹ کے حکام اس بارے میں کوئی تفصیل بتانے سے کتراتے ہیں یا متعلقہ حکام رابطے میں ہی نہیں آتے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔