پانچ سو سکول تباہ، چھ ہزار اساتذہ مجبور

آخری وقت اشاعت:  منگل 21 اگست 2012 ,‭ 06:44 GMT 11:44 PST

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حکام کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران پانچ سو کے قریب تعلیمی ادارے شدت پسندی کے کارروائیوں میں تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے پانچ لاکھ سے زیادہ بچے تعلیم کے حصول سے محروم ہوگئے ہیں۔ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ۔

پانچ سال میں پانچ سو سکول

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حکام کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران پانچ سو کے قریب تعلیمی ادارے شدت پسندی کے کارروائیوں میں تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے پانچ لاکھ سے زیادہ بچے تعلیم کے حصول سے محروم ہوگئے ہیں۔

محکمہ تعلیم فاٹا کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہاشم خان آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ قبائلی علاقوں میں جاری شدت پسندی کی کارروائیوں کے دوران اب تک چار سو پچاسی تعلیمی ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔ ان میں کالج، ہائیر سیکنڈری سکول، ہائی سکول، مڈل اور پرائمری سکول شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان سکولوں کے تباہ ہونے کی وجہ سے تقریباً پانچ لاکھ بچوں کا تعلیمی سلسلہ بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ لیکن بعض تباہ ہونے والے سکولوں کے لیے متبادل مقامات کا بندوبست کیاگیا ہے اور کچھ سکولوں کے لیے خیمے دیے گئے ہیں۔ جبکہ زیادہ تر سکول مقامی رہائشیوں کے گھروں اور حجروں میں منتقل کیےگئے ہیں۔ بعض جگہوں پر تناور درختوں کے نیچے تعلیمی سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق ان متبادل مقامات پر شروع کیے جانے والے سکولوں کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔ ان سکولوں پر خرچے کے لیے سعودی عرب اور عرب امارات کا تعاون حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں سے تقریباً پچاس فیصد بچوں کا تعلیمی سلسلہ بحال کر دیاگیا ہے لیکن پھر بھی پچاس فیصد بچے مکمل طور پر تعلیم کی حصول سے محروم ہوچکے ہیں۔

اہلکار کے مطابق گھروں میں تنخواہ لینے والے اساتذہ ڈیوٹیوں سے انکاری نہیں ہیں لیکن ان کے سکول تباہ ہوچکے ہیں۔ جب یہ سکول دوبارہ تعمیر ہو جائیں گے تو تمام اساتذہ بھی اپنے ڈیوٹی پر حاضر ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ تباہ شدہ سکولوں کی یہ تعداد صرف سرکاری تعلیمی اداروں کی ہے جبکہ پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

سرکاری تعلیمی ادارے تباہ ہونے کی وجہ سے اکثر بچے اس لیے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کیونکہ ایک طرف گھر کے اخراجات پورے کرنے ہیں اور دوسری طرف پرائیوٹ سکولوں میں فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔

درویش خان خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں کوہی شیر حیدر انٹر کالج میں سیکنڈ ائیر کے طالب علم تھے۔ دو سال پہلے ان کے کالج کو دھماکے سے تباہ کر دیا گیا تھا جس کے بعد ان کا کالج بھی بند ہوگیا ہے۔ ان کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا ہے اور وہ کارخانوں مارکیٹ میں ایک ورکشاپ میں کام کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

درویش خان کا کہنا ہے کہ کالج میں ان کے اکتالیس کلاس فیلو تھے اور کالج کے اساتذہ میں سے اکثر پشاور کے بندوبستی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ دو سال پہلے باڑہ میں فوجی آپریشن کے دوران ان کے کالج میں رات کے وقت نامعلوم افراد نے بم دھماکے کیے جس سے کالج کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان دھماکوں کے بعد باہر سے آنے والے اساتذہ نے خوف کی وجہ سے کالج آنا چھوڑ دیا اور آہستہ آہستہ کالج مکمل طور پر بند ہوگیا۔

درویش خان کا کہنا تھا کہ ان کے کلاس فیلوز میں سے پانچ ایسے تھے جن کی معاشی حالت کچھ بہتر تھی اور انہوں نے پشاور کے دوسرے کالجوں میں داخلہ لے لیا۔ اور باقی چھتیس طلب علم خیبر ایجنسی اور پشاور کے مختلف علاقوں میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

"کلاس فیلوز میں سے پانچ ایسے تھے جن کی معاشی حالت کچھ بہتر تھی اور انہوں نے پشاور کے دوسرے کالجوں میں داخلہ لے لیا۔ اور باقی چھتیس طلب علم خیبر ایجنسی اور پشاور کے مختلف علاقوں میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں"

درویش خان

انہوں نے بتایا کہ باڑہ کالج ان کے گھر کے قریب تھا اور وہ پیدل کالج جاتے تھے جس وجہ سے ان کا ایک روپے کا خرچہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ اب اگر وہ کسی دوسرے کالج میں داخلہ لے سکے تو ان کے آنے جانے کا خرچہ صرف پانچ سو روپے روزانہ کے حساب سے بنتا ہے جو ان کے لیے ناممکن ہے۔

مہمند ایجنسی تحصیل صافی کے علاقے کندارو کے رہائشی ظاہر شاہ نے بتایا کہ مہمند ایجنسی میں سب سے زیادہ سکول تحصیل صافی میں تباہ ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے گاؤں میں ایک سرکاری ہائی سکول ہے جس میں پورےگاؤں کے لڑکے تعلیم حاصل کر رہے تھے لیکن یہ سکول دسمبر دو ہزار اٹھ میں سکیورٹی فورسز کی بمباری میں اس وقت تباہ ہوا جب سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی لڑائی کے دوران شدت پسندوں نے سکول میں ٹھکانہ بنا رکھا تھا۔

ظاہر شاہ کے مطابق سکول میں اب بھی کلاسیں چل رہی ہیں۔ لیکن اس کی عمارت ابھی تک ایک ملبے کا ڈھیر ہے۔ جبکہ بچے کُھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا بھتیجا یسین خان اٹھویں کلاس میں اسی سکول میں پڑھ رہا تھا لیکن سکول تباہ ہونے کی وجہ سے ان کا تعلیمی سلسلہ منعقطع ہوگیا ہے۔ تاہم اس سال انہوں نے میٹرک کا امتحان پرائیوٹ طور پر دیا لیکن ان کی پوزیشن اچھی نہیں تھی۔

اگر ایک طرف لاکھوں قبائلی متاثرین اپنے گھروں سے دور روزگار کی تلاش میں در بدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں تو دوسری طرف ان قبائلیوں کے آنے والی نسلوں کو تعیلم کی سہولت حاصل نہیں ہے۔ یہ حکومت کے لیے ایک بُہت بڑا چلینج ہے۔

حکومت کے لیے بڑا چلینج



قبائلی علاقے: سکولوں کی تباہی، لاکھوں بچے متاثر

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سینکڑوں سکولوں کی عمارتیں تباہ ہونے کی وجہ سے تقریباً پانچ لاکھ بچوں کا تعلیمی سلسلہ بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایک طرف لاکھوں قبائلی متاثرین اپنے گھروں سے دور ہیں تو دوسری طرف ان کی آنے والی نسلوں کو تعیلم کی سہولت حاصل نہیں ہے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سینکڑوں سکولوں کی عمارتیں تباہ ہونے کی وجہ سے تقریباً پانچ لاکھ بچوں کا تعلیمی سلسلہ بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایک طرف لاکھوں قبائلی متاثرین اپنے گھروں سے دور روزگار کی تلاش در بدر ٹھوکرے کھا رہے ہیں تو دوسری طرف ان کی آنے والی نسلوں کو تعیلم کی سہولت حاصل نہیں ہے جو حکومت کے لیے ایک بُہت بڑا چلینج ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کی رپورٹ

ایک نسل تعلیم سے محروم

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرکاری تعلیمی اداروں اور نجی سکولوں پر جاری حملوں کی وجہ سے لاکھوں طلباء و طالبات تعلیم کی حصول سے محروم ہوچکے ہیں جبکہ ماہرین تعلیم یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ایسے حالات میں تعلیم محروم یہ طالب علم باآسانی شدت پسندوں کے ہتھے بھی چڑھ سکتے ہیں۔

ایک نسل تعلیم سے محروم

ایک نسل تعلیم سے محروم

سنئیےmp3

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

قبائلی علاقے برسوں سے پسماندگی کا شکار ہیں جسکی وجہ سے ان علاقوں میں تعلیم کی شرح انتہائی کم رہی ہے۔ بالخصوص قبائلی ایجنسیوں میں خواتین کی تعلیم نہ ہونے کی برابر ہے۔ آج بھی فاٹا میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں لڑکیوں میں تعلیم کی شرح ایک یا دو فیصد ہے جبکہ بعض علاقوں میں یہ شرح اس سے بھی کم یعنی صفر فیصد تک بتائی جاتی ہے۔

"ایک ایسا علاقہ جہاں کی آبادی تیس پینتیس لاکھ کے قریب ہو اور وہاں پانچ سات لاکھ طلباء سکول سے باہر ہوں اور ان علاقوں میں شدت پسندوں کی سرگرمیاں بھی عروج پر ہوں، تو ایسے میں اگر یہ طالب علم کسی نہ کسی صورت ان تنظیموں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں تو ملک و قوم کے لیے یہ کتنی خطرناک بات ہوگی۔ "

پروفیسر ڈاکٹر خادم حسین

بتایا جاتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں سب سے پہلے درہ آدم خیل میں لڑکیوں کے سکولوں پر حملوں کا آغاز ہوا۔ تاہم رفتہ رفتہ یہ واقعات دیگر قبائلی مقامات تک پھیلتےگئے اور آج حالات یہ ہیں کہ کوئی قبائلی علاقہ ان حملوں سے محفوظ نہیں۔

طالبان اور شدت پسند تنظیمیں الزام لگاتی ہیں کہ پاکستان کے سرکاری سکول اور تعلیمی ادارے مغربی تعلیم کی ترویج کر رہے ہیں جو ان کے بقول غیر اسلامی ہے اور اسی وجہ سے وہ ان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ان کے بقول ’ایک ایسا علاقہ جہاں کی آبادی تیس پینتیس لاکھ کے قریب ہو اور وہاں پانچ سات لاکھ طلباء سکول سے باہر ہوں اور ان علاقوں میں شدت پسندوں کی سرگرمیاں بھی عروج پر ہوں، تو ایسے میں اگر یہ طالب علم کسی نہ کسی صورت ان تنظیموں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں تو ملک و قوم کے لیے یہ کتنی خطرناک بات ہوگی۔‘

خادم حیسن کے مطابق جو علاقے تعلیم کی نعمت سے محروم ہوں وہاں کے نوجوانوں کو کوئی بھی اپنے مقاصد کے لیے باآسانی استعمال کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں سکولوں پر حملوں کے باعث پوری ایک نسل تعلیم سے محروم ہوگئی ہے لیکن حکومت اور بین الاقوامی امدادی اداروں کی طرف سے اس کی بحالی کے سلسلے میں تاحال قابل ذکر اقدامات دیکھنے کو نہیں مل رہے۔ ان کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جنگ سے متاثرہ ان علاقوں میں تباہ شدہ سکولوں کے جلد بحال ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا جس سے ہر لحاظ سے نقصان ہوگا۔

"تعلیمی اداروں پر حملوں سے جتنا بڑا نقصان ہوا ہے حکومت کی طرف سے اتنی سنجیدگی نہیں دیکھی جا رہی۔ جو سکول تباہ ہوگئے ہیں وہ تو پتہ نہیں کب بحال ہوں گے لیکن جو باقی ماندہ سکول ہیں ان کو بھی تاحال کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا۔"

شیر عالم شنواری

ادھر دوسری طرف متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ تعلیمی اداروں کی بحالی کا کام انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ فاٹا کے بیشتر علاقوں میں حکومتی عمل داری بھی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے حکام کے لیے ان علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کا کام ایک مستقل مسئلہ بنا ہوا ہے۔

پشاور میں گزشتہ بارہ سالوں سے ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک صحافی اور تحقیق کار شیر عالم شنواری کا کہنا ہے کہ فاٹا میں زیادہ تر حملے لڑکیوں کے سکولوں پر کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے بعض علاقوں میں لڑکیوں کی شرح تعلیم صفر تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی تحقیق کے مطابق خیبر ایجنسی میں لڑکیوں کی شرح تعلیم صفر فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ لڑکوں کی تین فیصد تک بتائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’تعلیمی اداروں پر حملوں سے جتنا بڑا نقصان ہوا ہے حکومت کی طرف سے اتنی سنجیدگی نہیں دیکھی جا رہی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’جو سکول تباہ ہوگئے ہیں وہ تو پتہ نہیں کب بحال ہوں گے لیکن جو باقی ماندہ سکول ہیں ان کو بھی تاحال کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا۔‘

قبائلی علاقوں میں کئی سالوں سے سکولوں پر جاری حملوں کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ یہ حملے مسلسل جاری ہیں۔ تاہم حکومت کی طرف سے ان حملوں کو روکنے کے لیے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔

تعلیمی ادارے آسان نشانہ

وفاقی وزیر قبائلی علاقہ جات اور سرحدی امور انجینیئر شوکت اللہ خان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں تعلیمی ادارے شدت پسندوں کے لیے آسان نشانہ ہوتے ہیں اس لیے اگر انھیں بحال کردیا جائے تو دوبارہ ان پر حملے ہو سکتے ہیں اس لیے انتہائی احتیاط سے انھیں دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے لیکن اب حکومت کی یہ پالیسی ہے کہ پرائمری سکول کی پانچ جماعتوں کے بچوں کے لیے دو کمروں کے سکول نہیں بلکہ پانچ کمروں کے سکول ہوں گے۔

تعلیمی ادارے آسان ہدف

تعلیمی ادارے آسان ہدف

سنئیےmp3

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کی سات قبائلی ایجنسیوں اور ملاکنڈ ڈویژن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں کوئی چار سو پچاسی سکول تباہ کیے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق فوجی آپریشن اور شدت پسندوں کی کارروائیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں تعلیمی ادارے بند بھی ہیں جس وجہ سے ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ طلبا اور طالبات تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں


قبائلی علاقوں میں سکول

قبائلی علاقوں میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کوئی ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ پرائمری سکول ہیں۔ مڈل سکول، ہائی سکول اور ہائیر سیکنڈری سکول اس کے علاوہ ہیں۔ ان سکولوں میں کچھ تباہ تو کچھ حالات کی خرابی کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔

انجینیئر شوکت اللہ ان کے مطابق اگر ان تعلیمی اداروں کو بحال یا تعمیر کر دیا جائے تو انھیں دوبارہ نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور اس طریقے سے وہ سرکاری فنڈز ضائع نہیں کر سکتے۔

انھوں نے کہا کہ جن علاقوں میں فوجی آپریشن کیے گئے وہاں بحال کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسہ میں باجوڑ ایجنسی میں واپس آکر آباد ہونے والے افراد میں امدادی اداروں اور دیگر ممالک کی مدد سے دو ارب روپے تقسیم کیے جاچکے ہیں جبکہ بعض اداروں کی مدد سے جن افراد کے مکان تباہ ہوئے ان کے لیے ماڈل شیلٹرز بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

باجوڑ ایجنسی میں سرکاری ذرائع کے مطابق آئی ڈی پیز کی واپسی کے بعد پینتیس ہزار سے زیادہ بچوں کو سکولوں میں داخلے دیے گئے ہیں لیکن ایک اندازے کے مطابق اسی ہزار سے زیادہ بچے اب بھی تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں۔

انجینیئر شوکت اللہ خان نے کہا کہ متاثرین کی بحالی کے بعد تعلیمی سلسلہ مکمل طور پر شروع ہو سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں تعلیم کی کوئی آئیڈیل صورتحال نہیں ہے اس لیے سکولوں میں بچوں کو خوراک دینے کے منصوبے پر بھی کام ہو رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے سکولوں میں آ سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ابتدائی سطح پر متاثرین کو نقد رقم اور ان کے مکان تعمیر کیے جا رہے ہیں جس کے بعد سکولوں کی بحالی کا سلسلہ مکمل کیا جائے گا۔

"متاثرین کی بحالی کے بعد تعلیمی سلسلہ مکمل طور پر شروع ہو سکے گا۔ قبائلی علاقوں میں تعلیم کی کوئی آئیڈیل صورتحال نہیں ہے اس لیے سکولوں میں بچوں کو خوراک دینے کے منصوبے پر بھی کام ہو رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے سکولوں میں آ سکیں۔"

انجینیئر شوکت اللہ خان

انھوں نے کہا کہ حکومت قبائلی علاقوں میں توجہ دے رہی ہے اور نئی پالیسی کے تحت اب قبائلی علاقوں کے پرائمری سکول دو کمروں پر نہیں بلکہ پانچ کمروں پر مشتمل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک پانچ جماعتوں کے بچوں کے لیے دو کمرے کے سکول ہوتے تھے ۔ ایسے سکولوں میں دو جماعتوں کے بچے تو کمروں میں اور باقی بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرتے تھے۔

قبائلی علاقوں میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کوئی ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ پرائمری سکول ہیں۔ مڈل سکول، ہائی سکول اور ہائیر سیکنڈری سکول اس کے علاوہ ہیں۔ ان سکولوں میں کچھ تباہ تو کچھ حالات کی خرابی کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔

حکومت نے اب تک ان سکولوں کی بحالی اور قبائلی علاقوں میں کوئی مکمل یا واضح پالیسی کا اعلان نہیں کیا ہے۔ پشاور میں قائم فاٹا سیکریٹیریٹ کے حکام اس بارے میں کوئی تفصیل بتانے سے کتراتے ہیں یا متعلقہ حکام رابطے میں ہی نہیں آتے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔