اکبر بگٹی کی برسی پر شٹر ڈاؤن ہڑتال

آخری وقت اشاعت:  اتوار 26 اگست 2012 ,‭ 08:59 GMT 13:59 PST

بلوچستان کے اکثر علاقوں میں اتوار کو بلوچ قوم پرست رہنماء نوا ب محمد اکبر خان بگٹی کی چھٹی برسی کے موقع پر شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال رہی۔

اس موقع پر سیاسی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے کیے جبکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے سخت حفاظتی انتظامات کر رکھے تھے۔

نواب محمد اکبر خان بگٹی چھبیس اگست سنہ دو ہزار چھ میں ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے درمیانی علاقے ترتانی میں ایک فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔

اتوار کو ہڑتال کی کال بلوچ ری پبلکن پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی نے دی تھی جبکہ بلوچ نیشنل فرنٹ، بلوچ نیشنل وائس، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی نے بھی ہڑتال کی حمایت کی۔

ہڑتال کے موقع پر کوئٹہ، مستونگ، قلات، سوراب، خضدار، وڈھ، نوشکی، دالبندین، مچھ، سبی، ڈیرہ مراد جمالی، اوستہ محمد، ڈیرہ اللہ یار، سوئی، تربت مند، پسنی، جیونی اور گوادر میں تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔

ہڑتال کے موقع پر کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔ کوئٹہ اور صوبے کے دیگرشہروں میں پولیس اور لیویز کے ساتھ ساتھ فرنٹیئرکور کے اہلکار بھی دن بھر گشت کرتے رہے۔

برسی کے موقع پر بی آر پی اور جے ڈبلیو پی کے کارکنوں نے کو ئٹہ اور دیگر پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ نواب اکبر بگٹی کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزادی جائے۔

مظاہرین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ضلع ڈیرہ بگٹی جو اس وقت نو گو ایریا بن چکا ہے وہاں فوری طور پر امن قائم کر کے بگٹی خاندان کے لوگوں کو ڈیرہ بگٹی جانے کی اجازت دی جائے کیونکہ نواب بگٹی کی ہلاکت کے بعد بگٹی خاندان کے لوگوں کو تاحال آبائی علاقے ڈیرہ بگٹی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملی ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے دو ماہ قبل صوبائی حکومت کو ہدایت کی تھی ڈیرہ بگٹی میں نوگو ایریا ختم کر کے وکلاء اور صحافیوں کا وفد وہاں لے جا کر رپورٹ پیش کی جائے لیکن حکومت کی جانب سے تاحال سپریم کورٹ کے اس حکم پر عمل نہیں ہوا ہے۔

یاد رہے کہ نواب محمد اکبرخان بگٹی کے صاحبزادے نوابزادہ جمیل اکبربگٹی نے سال دوہزار نو میں اپنے والد کے قتل کے الزام سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف، سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے علاوہ سابق گورنر بلوچستان اویس احمدغنی اور سابق وزیراعلی بلوچستان میر جام یوسف کے خلاف ڈیرہ بگٹی میں مقدمہ درج کروایا تھا۔

سال رواں میں سبی کی ایک انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پیش نہ ہونے پر ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنت گرفتاری بھی جاری کیے تھے لیکن سابق صدرجنرل پرویزمشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز کے بیرون ملک ہونے کے باعث تاحال گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی ہے جبکہ باقی ملزمان ملک کی مختلف عدالتوں سے ضمانت قبل ازوقت گرفتاری کروا چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔