باجوڑ ایجنسی میں جھڑپیں جاری، عوام محصور

آخری وقت اشاعت:  پير 27 اگست 2012 ,‭ 13:07 GMT 18:07 PST
باجوڑ

باجوڑ میں تشدد جاری ہے اور لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں افغان سرحد سے داخل ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کے بعد پاک افغان سرحدی مقامات پر پیر کو چوتھے روز بھی سکیورٹی فورسز اور طالبان کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور لڑائی کی وجہ سے مقامی افراد گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ باجوڑ ایجنسی کے علاقے تحصیل سلارزئی کے پاک افغان سرحدی مقامات بٹوار، بٹ مالائی اور سروونو میں گزشتہ چار دنوں سے سکیورٹی فورسز ، مقامی لشکر اور طالبان گروپوں کے درمیان جاری جھڑپیں شدید رخ اختیار کرتی جا رہی ہیں جس سے علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور شدت پسند پہاڑی علاقوں میں مورچہ زن ہیں اور ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کررہے ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق دو دنوں کے دوران گن شپ ہیلی کاپٹروں نے دو تین مرتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ کی ہے جس میں ہلاکتوں کے حوالے سے متضاد اطلاعات مل رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کشیدگی کی وجہ سے مقامی لوگ اپنے مکانات محصور ہو کر رہ گئے ہیں جس سے ان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چار دن سے جاری لڑائی میں تیس سے زائد عسکریت پسند مارے گئے ہیں جبکہ چار سکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

تاہم کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے ہلاکتوں کے سلسلے میں حکومتی دعوؤں کی تردید کی ہے۔

تنظیم کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے جوابی دعوے میں کہا ہے کہ اب تک کی لڑائی میں چار سکیورٹی اہلکار اور چار لشکر کے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والوں کی لاشیں ان کے قبضے میں ہیں جبکہ چار گاڑیاں اور ایک ٹینک بھی قبضہ میں لیا گیا ہےتاہم آزاد ذرائع سے طالبان کے دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ جمعہ کو باجوڑ اور ملاکنڈ ڈویژن کے طالبان نے ایک مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے سالارزئی تحصیل پر حملہ کیا تھا اور علاقے میں بدستور لڑائی جاری ہے۔ انہوں نے مزید دعوی کیا ہے کہ علاقہ کا ایک بڑا حصہ ان کے کنٹرول میں ہے تاہم حکومتی ذرائع نے شدت پسندوں کے دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہےکہ یہ علاقہ پہاڑی اور دشوارگزار ہونے کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں نہیں آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو ہزار نو میں ہونے والے آپریشن کے بعد طالبان کی طرف سے حالیہ کاروائی ایک بڑا حملہ قرار دیا جارہا ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب جمعہ ہی کے روز تحریک طالبان باجوڑ ایجنسی کے امیر ملا داد اللہ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں اتحادی افواج کے ایک حملے میں بارہ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں دو ہزار آٹھ اور نو میں ہونے والے فوجی آپریشنز کے بعد علاقہ طالبان گروپوں سے صاف کردیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس آپریشن کے بعد طالبان کی ایک بڑی تعداد نے افغانستان کے سرحدی صوبوں کنڑ اور نورستان میں پناہ لے رکھی تھی۔

گزشتہ کچھ عرصہ سے سرحدی علاقوں میں مقیم ان پاکستانی طالبان گروپوں کی طرف سے باجوڑ کے علاقوں میں حملوں میں شدت آرہی ہے ۔ اس سے پہلے ہونے والے حملوں میں شدت پسند کاروائی کرکے پہاڑی علاقوں کی طرف بھاگ جاتے تھے لیکن حالیہ حملے میں عسکریت پسندوں نے ایک نئی حکمت عملی کا استعمال کیا ہے جس سے ان کی طاقت میں اضافے کا اشارہ مل رہا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔