باجوڑ: جھڑپیں جاری، تین سکیورٹی اہلکار ہلاک

آخری وقت اشاعت:  بدھ 29 اگست 2012 ,‭ 19:23 GMT 00:23 PST
فائل فوٹو، پاکستانی فوج

باجوڑ ایجنسی میں جمعہ سے شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں افغان سرحد سے داخل ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کے بعد پاک افغان سرحدی مقامات پر سکیورٹی فورسز اور طالبان کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ منگل کو پانچویں روز بھی جاری ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق منگل کو بٹوار کے سرحدی علاقے میں شدت پسندوں سے جھڑپ میں گیارہ شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

بیان کے مطابق شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے ہیں۔

سکیورٹی حکام نے آٹھ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے اور کئی کی لاشوں کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

علاقے میں جمعہ سے جاری جھڑپوں میں درجنوں شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ جمعہ کو سرحد پار سے داخل ہونے والے شدت پسندوں نے اس وقت باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر یہ حملے ایسے وقت شروع کیے گئے جب جمعہ کو ہی تحریک طالبان باجوڑ ایجنسی کے امیر ملا داد اللہ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں اتحادی افواج کے ایک حملے میں بارہ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔

گزشتہ روز پیر کو عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ باجوڑ ایجنسی کے علاقے تحصیل سلارزئی کے پاک افغان سرحدی مقامات بٹوار، بٹ مالائی اور سروونو میں گزشتہ چار دنوں سے سکیورٹی فورسز ، مقامی لشکر اور طالبان گروپوں کے درمیان جاری جھڑپیں شدید رخ اختیار کرتی جا رہی ہیں جس سے علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور شدت پسند پہاڑی علاقوں میں مورچہ زن ہیں اور ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کر رہے ہیں۔

باجوڑ

باجوڑ میں تشدد جاری ہے اور لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق کشیدگی کی وجہ سے مقامی لوگ اپنے مکانات محصور ہو کر رہ گئے ہیں جس سے ان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

پیر کو کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے دعویٰ کیا تھا کہ جمعہ کو باجوڑ اور ملاکنڈ ڈویژن کے طالبان نے ایک مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے سالارزئی تحصیل پر حملہ کیا تھا اور علاقے میں بدستور لڑائی جاری ہے۔ انہوں نے مزید دعوی کیا ہے کہ علاقہ کا ایک بڑا حصہ ان کے کنٹرول میں ہے تاہم حکومتی ذرائع نے شدت پسندوں کے دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہےکہ یہ علاقہ پہاڑی اور دشوارگزار ہونے کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں نہیں آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو ہزار نو میں ہونے والے آپریشن کے بعد طالبان کی طرف سے حالیہ کارروائی ایک بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں دو ہزار آٹھ اور نو میں ہونے والے فوجی آپریشنز کے بعد علاقہ طالبان گروپوں سے صاف کر دیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس آپریشن کے بعد طالبان کی ایک بڑی تعداد نے افغانستان کے سرحدی صوبوں کنڑ اور نورستان میں پناہ لے رکھی تھی۔

گزشتہ کچھ عرصہ سے سرحدی علاقوں میں مقیم ان پاکستانی طالبان گروپوں کی طرف سے باجوڑ کے علاقوں میں حملوں میں شدت آ رہی ہے ۔ اس سے پہلے ہونے والے حملوں میں شدت پسند کارروائی کرکے پہاڑی علاقوں کی طرف بھاگ جاتے تھے لیکن حالیہ حملے میں عسکریت پسندوں نے ایک نئی حکمت عملی کا استعمال کیا ہے جس سے ان کی طاقت میں اضافے کا اشارہ مل رہا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔