جنوبی وزیرستان:چوکی پر حملہ، آٹھ اہلکار’ ہلاک‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 29 اگست 2012 ,‭ 07:44 GMT 12:44 PST

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان ایجنسی کی تحصیل تیارزہ میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملے میں کم از کم آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر یہ منگل کی رات کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز اور طالبان میں فائرنگ کا تبادلہ تین گھنٹے تک جاری رہا۔

پشاور میں ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی یہ چیک پوسٹ حال ہی میں تحصیل تیارزہ، تحصیل سورکئی اور تحصیل لدھا کے سرحدی علاقے میں قائم کی گئی ہے تاکہ شدت پسندوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔

عسکری ذرائع نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جنوبی وزیرستان کے سرنگ بابا علاقے میں دو روز سے جاری سرچ آپریشن شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں تباہ کیا گیا ہے جس میں اٹھارہ دہشتگرد ہلاک اور اکیس زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ بدر چیک پوسٹ پر کیا گیا جس میں سکیورٹی فورسز کے بارہ اہلکار ہلاک ہوئے۔ احسان اللہ احسان نے مزید کہا کہ اہلکاروں کا اسلحہ بھی انھوں نے قبضے میں لے لیا ہے۔

احسان اللہ احسان نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ سات لاشیں ان کے قبضے میں ہیں۔ سرکاری سطح پر اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

مقامی سطح پر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ صدر مقام وانا سے دور ہے اس لیے اطلاعات دیر سے موصول ہو رہی ہیں۔

اس سال جون میں جنوبی وزیرستان ایجنسی کی تحصیل لدھا میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے میں ایک افسر ہلاک اور دس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

سکیورٹی فورسز کے ذرائع نے اس کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ اس مقام سے راکٹ فائر کیے گئے تھے وہاں جوابی کارروائی کی جس میں دس شدت پسند ہلاک کر دیے گئے تھے۔

جنوبی اور شمالی وزیرستان کے علاوہ باجوڑ ایجنسی میں ان دنوں حالات کشید بتائے جا رہے ہیں جبکہ خیبر ایجنسی سے بھی بم دھماکوں اور حملوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔