قبائلی علاقوں میں حملے فوج کے لیے پیغام

آخری وقت اشاعت:  بدھ 29 اگست 2012 ,‭ 16:03 GMT 21:03 PST

شدت پسند حکومت اور فوج پر اپنی طاقت دکھا کر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ تر نوالہ ثابت نہیں ہوں گے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد اس علاقے میں سیکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں کے حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

قبائلی علاقوں کے مبصرین کا کہنا ہے کہ شدت پسند فوج پر حملے کر کے ان پر اپنی طاقت واضح کر کے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی ممکنہ فوجی آپریشن کے لیے تیار ہیں اور فوج کے لیے تر نوالہ ثابت نہیں ہوں گے۔

جنوبی وزیرستان ایجنسی کی تحصیل تیارزہ میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر گذشتہ رات ہونے والا حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی دکھائی دیتا ہے۔ اس حملے میں شدت پسندوں نے سات سیکیورٹی اہلکاروں کے سر قلم کر دیے تھے۔

اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور شدت پسند ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے ہیں لیکن قبائلی علاقوں کے لیے یہ بات نئی نہیں ہے۔

جب سے پاکستان میں شدت پسندی نے زور پکڑا ہے، پاکستان کے قبائلی علاقوں اور ان مقامات پر جہاں سیکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں سر قلم کیے جانے کے واقعات ہوتے چلے آ رہے ہیں۔

سولہ مارچ دو ہزار چار میں سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے علاقے کالوشہ میں کمانڈر نیک محمد کے خلاف کارروائی کی۔ اگرچہ اس کارروائی میں نیک محمد اور غیر ملکی کمانڈر طاہر یلدوژ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن ان کے کئی ساتھی مارے گئے تھے۔

اس واقعے کے دوسرے دن شدت پسندوں کے ایک گروہ نے ٹانک سے جنوبی وزیرستان جانے والے قافلے کو سروکئی کے مقام پر نشانہ بنایا۔اس واقعے میں طالبان نے سیکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا۔ چند دن بعد ان تمام آٹھ اہلکاروں کی ذبح شدہ لاشیں ملی تھیں۔

حکمتِ عملی میں تبدیلی

اس سے پہلے طالبان شدت پسند دوسرے علاقوں میں جا کر کارروائی کرتے تھے لیکن وزیرستان کو اپنے لیے محفوظ بنانے کے لیے اس طرح کے واقعات سے دور رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن اب چند ہفتوں سے وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کی باتیں سامنے آنے کے بعد سے طالبان نے بھی سیکیورٹی فورسز کے خلاف بڑی کارروائیوں کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

لیکن مبصرین کے مطابق اس واقعے کے بعد سر قلم کرنے کا سلسلہ کافی حد تک رک گیا تھا۔ تاہم گذشتہ دو سالوں سے سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں بہت سے شدت پسندوں کی ویڈیو سامنے آئیں جن میں تشدد کے بعد انہیں ہلاک کرنے کے مناظر دکھائے گئے تھے۔اس قسم کے ویڈیو سامنے آنے پر طالبان نے اپنا موقف بھی واضح کیا۔ طالبان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ساتھیوں کا بدلہ سیکیورٹی فورسز سے لیں گے۔

ایک موقع پر ایک طالبان ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے سترہ سیکیورٹی فورسز اہلکاروں کو گلے کاٹ کر ہلاک کیا ہے لیکن ان کی پیاس اب بھی نہیں بجھی ہے۔ اس طالبان ترجمان نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز سے ان کی نفرت کا یہ عالم ہے کہ ان کا دل چاہتا ہے کہ وہ ’ان اہلکاروں کا خون پی جائیں۔‘

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اغوا شدہ سیکیورٹی فورسز کے گلے کاٹنے کے لیے وہ خاص طور پر ان افراد کو موقع دیتے ہیں جن کے قریبی عزیز سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوئے ہوتے ہیں۔

مقامی افراد کا مزید کہنا ہے کہ قبائلیوں میں انتقام کی روایت بہت پختہ ہے۔ قبائل اپنا انتقام کئی نسلوں تک نہیں بھولتے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے سر قلم کرنے کے واقعات میں یہ انتقامی جذبہ بھی دکھائی دیتا ہے۔

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کی ذبح شدہ لاشیں ملنے کے واقعات سوات اور بعض دیگر علاقوں میں تو ہوتے تھے لیکن وزیرستان میں کئی سالوں سے اس نوعیت کے واقعات پیش نہیں آئے۔

مبصرین کے مطابق دوسرے علاقوں کی نسبت وزیرستان اپنے محلِ وقوع کے لحاظ سے شدت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز دونوں کے لیے بہت اہم ہے۔ اس سے پہلے طالبان شدت پسند دوسرے علاقوں میں جا کر کارروائی کرتے تھے لیکن وزیرستان کو اپنے لیے محفوظ بنانے کے لیے اس طرح کے واقعات سے دور رہنے کی کوشش کرتے تھے۔

لیکن اب چند ہفتوں سے وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کی باتیں سامنے آنے کے بعد سے طالبان نے بھی سیکیورٹی فورسز کے خلاف بڑی کارروائیوں کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

مبصرین کہتے ہیں کہ شدت پسند حکومت اور فوج پر اپنی طاقت دکھا کر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ تر نوالہ ثابت نہیں ہوں گے۔

اس کے علاوہ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے تحریکِ طالبان کے خلاف جنوبی وزیرستان میں دو سال پہلے ایک بڑی کارروائی کی تھی جس کے بعد سے سیکیورٹی فورسز نے کہا تھا کہ جنوبی وزیرستان سے تحریکِ طالبان کو نکال دیا گیا ہے۔

لیکن اس تازہ حملے سے طالبان نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ وہ صرف شمالی ہی نہیں بلکہ جنوبی وزیرستان میں بھی اتنے ہی مضبوط ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔