بلوچستان: ’احساس محرومی ختم نہیں ہوا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 30 اگست 2012 ,‭ 17:55 GMT 22:55 PST

بلوچستان میں یہ تاثر عام ہے کہ لوگوں کے اغوا اور جبری گمشدگیوں میں یا تو فرنٹئیر کور یا پھر خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں

نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر حاصل بزنجو کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں تازہ اعداد و شمار کےمطابق اب تک ساڑھے چار سو لاپتہ بلوچ نوجوانوں کی لاشیں ملی ہیں۔

سینیٹر حاصل بزنجو نے اسلام آباد میں جبری گمشدگی کے عالمی دن کے موقعے پر کمیشن برائے انسانی حقوق کی طرف سے قومی اتفاق رائے کانفرنس کے دوران کہا کہ مشرقی بلوچستان میں اغوا اور جبری گمشدگی کے سب سے زیادہ واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی، کوہلو، قلات، مستونگ اور ان کے آبائی علاقے خضدار میں حالات بہت کشیدہ ہیں۔ حاصل بزنجو کے مطابق لاپتہ ہو جانے والوں میں سے کسی کی بھی گمشدگی کی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، صرف لاش ملنے کے بعد ہی رپورٹ درج کی جاتی ہے تاکہ ورثا آ کر لاش لے جائیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار سبین آغا کے مطابق نیشنل پارٹی کے رہنما نے گمشدگیوں کا الزام خفیہ ایجنسیوں سمیت ان نامعلوم مسلح گروہوں پر لگایا جنہیں بقول ان کے ریاست کی طرف سے ملک دشمنوں کے ساتھ نمٹنے کے لیے بندوقیں اور کالی سرف گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کالی گاڑیاں پورے کوئٹہ میں دہشت کے علامت بن چکی ہیں اور ان نامعلوم مسلح تنظیموں کو فوج بھی نہیں روک سکتی کیونکہ ان کے پاس خفیہ اداروں کے کارڈ ہوتے ہیں۔

وسائل پر حق نہیں

"جب دوسرے صوبوں کو اُن کے وسائل پر حق ہے تو بلوچوں کو دوسرے صوبوں کے وسائل اُن کے اپنے وسائل کہلاتے ہیں مگر بلوچستان کی بات آتی ہے تو پاکستان کے وسائل بن جاتے ہیں"

جہانزیب جمالدینی

کانفرنس میں شریک بلوچستان نیشنل پارٹی کے جہانزیب جمالدینی نے جذباتی انداز میں بات کرتے ہوئے کہا چونسٹھ سالوں کی محرومیوں کے ازالے کے لیے بلوچوں نے اسلحہ اٹھایا ہے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب دوسرے صوبوں کو اُن کے وسائل پر حق ہے تو بلوچوں کو کیوں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے صوبوں کے وسائل اُن کے اپنے وسائل کہلاتے ہیں مگر بلوچستان کی بات آتی ہے تو پاکستان کے وسائل بن جاتے ہیں۔

کانفرنس میں موجود عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر افراسیاب خٹک کے مطابق اٹھارویں ترمیم منظور ہونے کے باوجود بلوچستان کا احساس محرومی ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے جبری گمشدگی کے عالمی کنوینشن پر دستخط کی ضرورت پر زور دیا۔ سینیٹر افراسیاب خٹک نے یہ بھی کہا کہ اسلحہ، تشدد اور لاقانونیت کا کینسر ملک کے وجود کے لیے خطرہ ہے۔

بلوچستان کی صورتحال پر ایچ آر سی پی کی رپورٹ

پاکستان میں کمیشن برائے انسانی حقوق نے بلوچستان کی صورتحال پر رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق سال دو ہزار بارہ میں وہاں ستاون ایسے افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں ہیں جو کہ لاپتہ تھے جبکہ پچھلے بارہ سالوں میں ایک سو اٹھانوے افراد کی گمشدگی کا ریکارڈ موجود ہے۔

یہ رپورٹ کمیشن برائے انسانی حقوق کی فیکٹ فائنڈنگ (تحقیقاتی) ٹیم نے بلوچستان کے پانچ روزہ دورے کے بعد تیار کی جس کی سربراہی زہرہ یوسف نے کی۔

رپورٹ میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں یہ تاثر عام ہے کہ لوگوں کے اغوا اور جبری گمشدگیوں میں یا تو فرنٹیئر کور یا پھر خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں جن کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بلوچستان میں اغوا برائے تاوان ایک کاروبار بن چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے مسئلے کو صرف بلوچوں کے حقوق یا علیحدگی پسندی کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں۔

رپورٹ میں بلوچستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ وہاں جدید اسلحے کی بڑھتی ہوئی تعداد کو بھی لمحہ فکریہ قرار دیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔