’چھوٹے گریڈ کی ملازمتیں بھی نہیں دی جاتیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 31 اگست 2012 ,‭ 07:37 GMT 12:37 PST

’جس صوبے کی اسامی خالی ہوتی ہے اس کو اسی صوبے کے افراد سے پُر کیا جاتا ہے‘ ۔ سٹاف کالج کوئٹہ کے اہلکار

پاکستانی فوج نے حال ہی میں سٹاف کالج کوئٹہ میں عام شہریوں کے لیے خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے ایسے افراد سے درخواستیں طلب کیں جن کے پاس پنجاب یا سندھ کے ڈومیسائل تھے۔

مجموعی طور پر پانچ خالی سویلین اسامیوں کے لیے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں واقع کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں ایسے افراد سے درخواستیں طلب نہیں کی گئیں جو کوئٹہ یا بلوچستان کے کسی بھی حصے کے ڈومیسائل کے حامل ہیں۔

یاد رہے کہ حکمراں جماعت پیپلز پارٹی نے سنہ دو ہزار آٹھ میں اقتدار میں آنے کے فوری بعد آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکج کا اعلان کیا تھا جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ بلوچستان کے مقامی بے روزگار نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار فراہم کیا جائے گا۔

اسامیاں پُر کرنے کے بارے میں کمانڈ اینڈ سٹاف کالج نے قومی اخبارات میں ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں کمپیوٹر آپریٹر (سینئر)، کمپیوٹر آپریٹر (جونیئر)، ڈرائیور ایچ ٹی وی، ڈرائیور ایل ٹی وی، اور بائنڈر کی نچلی سطح کی ایک ایک اسامی کے لیے گزشتہ ماہ درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔

بلوچستان سے درخواستیں نہ طلب کرنے پر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کالج میں ہر صوبے کے ڈومیسائل رکھنے والوں کے لیے اسامیاں موجود ہیں اور جو اسامی خالی ہوتی ہے اور اس کا تعلق جس صوبے سے ہوتا ہے اس کو اُسی طرح پُر کیا جاتا ہے۔

’بڑے گریڈ کی ملازمتیں تو درکنار، چھوٹے گریڈ کی ملازمتیں بھی مقامی افراد کو نہیں دی جاتیں‘ ۔ صدیق بلوچ

سٹاف کالج کے اہلکار کا کہنا تھا ’ہمارے ہاں پورے پاکستان سے ملازمین کی نمائندگی موجود ہے اور اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہاں مقامی افراد کی تعداد کم ہے بلکہ ان کی نمائندگی کہیں زیادہ ہے اور میرے خیال میں مقامی افراد کی نمائندگی پچھہتر فیصد کے لگ بھگ ہے۔ باقی پچیس فیصد میں ملک کے تمام صوبوں کی نمائندگی ہے۔‘

ان کے بقول جس صوبے کی اسامی خالی ہوتی ہے اس کو اسی صوبے کے افراد سے پُر کیا جاتا ہے۔

سٹاف کالج کے ایک اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئٹہ میں بہت سے افراد ایسے ہیں جو پنجاب اور سندھ سے آئے ہیں لیکن بلوچستان کے کشیدہ حالات کے باعث وہ کوئٹہ چھوڑ کر جا رہے ہیں، تو خالی اسامیوں پر پنجاب اور سندھ کے افراد کے آنے سے یہاں رہنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور چونکہ یہ اسامیاں بلوچستان میں ہیں تو بالواسطہ یہ افراد بلوچستان کی ہی خدمت کریں گے۔

تاہم کوئٹہ میں انگریزی روزنامہ بلوچستان ایکسپریس کے مدیر صدیق بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ گریڈ ایک سے سولہ تک کی سرکاری ملازمتیں مقامی آبادی کے لیے مختص ہوتی ہیں۔

ان کے بقول ملک کے حالات ویسے ہی خراب ہیں اور غیر مقامی افراد کو ملازمتیں دینے کے اقدامات بدنیتی پر مبنی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملازمتوں کے معاملے میں بلوچستان کے غریب لوگوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور بڑے گریڈ کی ملازمتیں تو درکنار، چھوٹے گریڈ کی ملازمتیں بھی مقامی افراد کو نہیں دی جاتیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔