گوادر کے صحافی دلشاد دھانی کا قتل

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 31 اگست 2012 ,‭ 16:08 GMT 21:08 PST
کراچی

دلشاد دہانی کو ان کے بھانجے ذوہیب حسن نے کراچی کے علاقے بغدادی میں قتل کردیا

بلوچستان کے شہر گوادر سے تعلق رکھنے والے صحافی دلشاد دھانی کو آج صبح کراچی میں قتل کر دیا گیا۔

دلشاد دھانی کے قریبی رشتہ دار مراد علی نے بی بی سی اردو سروس کی تابندہ کوکب سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں انہی کے سگے بھانجے ذوہیب حسن نے کراچی کے علاقے بغدادی میں قتل کردیا۔

مراد علی کے بقول ذوہیب کی عمر اٹھارہ سے انیس برس ہے اور وہ نشے کا عادی ہونے کے ساتھ ساتھ لیاری گینگ وار میں بھی ملوث ہے۔

مبینہ طور پر دلشاد جمعے کے روز جب اپنی بہن سے ملنے لیاری کے علاقے بغدادی گئے تو وہاں ذوہیب سے دوبارہ گینگ وار کے موضوع پر بات ہوئی جس پر دونوں میں تلخ کلامی ہوئی۔

دلشاد دھانی نے ذوہیب حسن کو یہی سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اس گینگ وار سے الگ ہوجائیں جس پر ذوہیب نے طیش میں آ کر انہیں سر میں گولی مار کر قتل کر دیا۔

دلشاد گوادر پریس کلب کے صدر بہرام بلوچ کے ساتھ صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے صحافیوں کی حفاظت پر منعقدہ ایک ورکشاپ میں شرکت کے لیے گوادر سے کراچی آئے تھے۔

دلشاد بلوچستان کے اخبارات ڈیلی آزادی، بلوچستان ایکسپریس سے وابستہ تھے اور گوادر پریس کلب کے جوائنٹ سیکرٹری کے طور پر بھی فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کی عمر پچاس سال کے لگ بھگ تھی۔

ان کی نماز جنازہ آج لیاری کراچی میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں لیاری کے میوہ شاہ قبرستان میں دفن کیا گیا۔

مرحوم نے اپنے پیچھے بیوہ کے ساتھ دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔