رمشا کیس:’امام مسجد پر بھی توہینِ مذہب کا الزام‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 ستمبر 2012 ,‭ 13:28 GMT 18:28 PST

امام مسجد کو اتوار کو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں عدالت نے ایک عیسائی بچی پر قرآنی قاعدہ جلانے کا الزام لگانے والوں میں شامل مسجد کے پیش امام کو بھی توہین مذہب کے الزام میں جیل بھجوا دیا ہے۔

پیش امام پر بچی کو پھنسانے کے لیے شواہد کو تبدیل کرنے اور اس کے لیے قرآن کی توہین کرنے کے الزام ہے۔

اسلام آباد کے نواحی گاؤں میرا جعفر کی مقامی مسجد کے امام حافظ خالد جدون کو پولیس نے سنیچر کی شب گرفتار کیا تھا۔

اسی گاؤں کی میرا جعفر کی رہائشی رمشاء نامی چودہ سالہ عیسائی بچی کو توہینِ مذہب کے الزامات کا سامنا ہے۔ انہیں تقریباً دو ہفتے قبل مبینہ طور پر قرآنی آیات پر مبنی کاغذ جلانے پر حراست میں لیا گیا تھا۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی سے رمنا پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او قاسم نیازی نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حافظ خالد جدون کا نام توہینِ مذہب کی دفعہ دس سو پچانوے بی کے تحت درج اسی ایف آئی آر میں شامل کیا گیا ہے جس کے تحت رمشاء کو حراست میں لیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ حافظ خالد جدون پر رمشاء کی گرفتاری کو ممکن بنانے کے لیے شواہد تبدیل کرنے کا الزام بھی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خالد جدون کی گرفتاری انہی کی مسجد کے نائب امام اور منتظم حافظ ملک محمد زبیر کی جانب سے ایک مقامی مجسٹریٹ کے سامنے سنیچر کو دیے گئے حلفیہ بیان کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔پولیس کے مطابق محمد زبیر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ مسجد کے پیش امام جدون نے راکھ سے بھرے ہوئے شاپنگ بیگ میں خود ہی قرآنی اوراق ڈال دیے تھے۔

گرفتاری کے بعد امام مسجد کو اتوار کو سخت سکیورٹی میں اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جس نے انہیں چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔ پیشی کے موقع پر خالد جدون نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک شخص کے بیان پرانھیں پھنسایا گیا ہے اور یہ کہ وہ بے گناہ ہیں۔

"یہ معاملہ پاکستان کے لیے ایک ’ٹیسٹ کیس‘ ہے اور اس میں کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔"

آل پاکستان علماء کونسل

مقدمے کے تفتیشی افسر منیر حسین جعفری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس بیان حلفی کے بعد مزید دو افراد نے بھی بیانِات حلفی دیے ہیں جس میں اس الزام کو دہرایا گیا ہے۔

اس سے پہلے ایک حکومتی طبی بورڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ رمشاء کی عمر چودہ برس ہے تاہم ذہنی لحاظ سے وہ اس سے کم عمر ہیں۔

اس بچی کی گرفتاری کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔

اس ہفتے کے آغاز میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے رمشاء کے جوڈیشل ریمانڈ میں چودہ دن کی توسیع کر کے اُنہیں واپس جیل بھجوا دیا تھا۔ رمشاء کی ضمانت کی درخواست ایک مقامی سیشن کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ انٹیلیجنس بیورو اور اسلام آباد پولیس کے ادارے سپیشل برانچ کی جانب سے بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ رمشاء کی ضمانت ہونے کی صورت میں اُس کی اور اُس کے اہلخانہ کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔

اہلکار کے مطابق رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی تھی کہ رمشاء جیل میں زیادہ محفوظ ہیں اس لیے جب تک یہ معاملہ مکمل طور پر حل نہیں ہوجاتا اور لوگوں کے جذبات ٹھنڈے نہیں پڑتے اُس وقت تک ملزمہ کو جیل میں ہی رکھا جائے۔

دریں اثناء پاکستانی علماء اور مشائخ کے نمائندہ گروپ آل پاکستان علماء کونسل نے ملزمہ مسیحی لڑکی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاملہ پاکستان کے لیے ایک ’ٹیسٹ کیس‘ ہے اور اس میں کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔