پشاور:امریکی قونصلیٹ کی گاڑی پر حملہ، تین ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 3 ستمبر 2012 ,‭ 10:10 GMT 15:10 PST

دھماکے میں سو کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی پولیس کے مطابق امریکی قونصلیٹ کی ایک گاڑی پر ہونے والے خودکش حملے میں ایک غیرملکی سمیت کم از کم تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

امریکی حکام نے اس دھماکے میں سفارت خانے سے وابستہ کسی امریکی اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ حملے میں کسی امریکی شہری کی ہلاکت کی اطلاعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

کلِک امریکی قونصلیٹ کی گاڑی پر حملہ، تصاویر میں

اس سے قبل صوبائی وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین نے بتایا تھا کہ دھماکے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے دو امریکی شہری تھے۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق یہ خودکش حملہ پیر کی صبح یونیورسٹی ٹاؤن کے علاقے میں ہوا جہاں گاڑی میں سوار حملہ آور نے قونصلیٹ کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔

بم دھماکے کے نتیجے میں دونوں گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جبکہ قریبی مکانات کو نقصان پہنچا۔

مقامی پولیس اہلکار ممتاز خان نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ امریکی قونصلیٹ کے زیرِ استعمال ایک لینڈ کروزر جیپ حملے کا نشانہ بنی جس میں سوار ایک شخص اور ایک راہ گیر ہلاک ہوگئے جبکہ ہلاک ہونے والا تیسرا شخص ممکنہ طور پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دھماکے میں سو کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی جگہ پر سڑک کے درمیانی حصے میں ایک گہرا گڑھا بن گیا اور گڑھے کے قریب ایک دوسری گاڑی بھی تباہ ہوئی ہے۔

امریکی قونصلیٹ سے جاری ہونے والے بیان میں اس حملے کی تصدیق کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں دو امریکی اہلکار اور قونصلیٹ کے دو پاکستانی ملازمین شامل ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس حملے میں امریکی سفارتخانے کا کوئی اہلکار ہلاک نہیں ہوا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حملے میں سفارتخانے کی دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اور حملے میں دو امریکیوں سمیت چار افراد مارے گئے۔

یاد رہے کہ پشاور میں یونیورسٹی ٹاؤن کا علاقہ بُہت حساس ہے جہاں کئی غیر مُلکی تنظمیوں کے علاوہ کئی ممالک کے قونصلیٹ موجود ہیں۔ اس واقعہ سے پہلے بھی اسی علاقے میں غیر مُلکیوں کی گاڑیوں پر حملے ہوچکے ہیں جس میں کئی اہلکار زخمی ہوتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔