خیبر پختونخوا میں امریکیوں پر حملے

آخری وقت اشاعت:  پير 3 ستمبر 2012 ,‭ 16:23 GMT 21:23 PST

پشاور میں امریکی قونصل خانے پر حملے میں تین افراد مارے گئے

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پیر کو امریکی قونصل خانے کی گاڑی پر حملہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے۔ اس صوبے میں امریکی اہل کاروں یا قونصل خانوں پر اس سے پہلے بھی حملے ہو چکے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے محکمۂ داخلہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً اپنے شہریوں اور عملے کی حفاظت کے لیے سفری احتیاط کے لیے خطرے کی اطلاعات جاری کی جاتی ہیں۔

پاکستان میں جس حساب سے شدت پسندی اور دہشت گردی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں اور آ رہے ہیں اس تناسب کو دیکھا جائے تو امریکیوں پر حملوں کی تعداد کوئی زیادہ نہیں ہے۔

پشاور کے یورنیورسٹی ٹاؤن میں امریکیوں پر سب سے زیادہ حملے ہوئے ہیں۔ انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق سن دو ہزار آٹھ میں ایک امدادی ادارے کے امریکی اہل کار کو یونیورسٹی ٹاؤن میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

فروری سن دو ہزار دس میں خیبر پختونخوا کے ضلع دیر میں ایک گرلز پرائمری سکول کے قریب حملے میں تین امریکیوں سمیت دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ افراد ایک قافلے کی صورت میں جا رہے تھے، اور ان میں صحافی بھی شامل تھے۔

اپریل دو ہزار دس میں پشاور میں امریکی قونصل خانے پر بم حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں متعدد پاکستانی اہل کار ہلا ک اور زخمی ہو گئے تھے۔

"پاکستان میں جس حساب سے شدت پسندی اور دہشت گردی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں اور آ رہے ہیں اس تناسب کو دیکھا جائے تو امریکیوں پر حملوں کی تعداد کوئی زیادہ نہیں ہے۔"

مئی دو ہزار گیارہ میں امریکی قونصل خانے کی گاڑی پر پشاور کے یونیورسٹی ٹاؤن ہی میں حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک شخص ہلاک اور ایک درجن افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ان میں امریکی قونصل خانے کے دو اہل کار بھی شامل تھے۔

امریکی عملے کو دستیاب بلٹ اور بم پروف گاڑیوں کی وجہ سے امریکیوں کو زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے ۔ یونیورسٹی ٹاؤن میں امریکی گاڑیوں پر دو مرتبہ شدید حملے کیے گئے جن میں حکام کے مطابق بڑی مقدار میں بارودی مواد استعمال کیا گیا لیکن گاڑیوں میں سوار اہل کار یا تو محفوظ رہے ہیں یا زخمی ہوئے ہیں۔

پیر کو ہونے والے حملے سے ایک ہفتے پہلے امریکہ کے محکمۂ داخلہ نے اپنے شہریوں اور عملے کے لیے سفری احتیاط برتنے کی تنبیہ کی یاد دہانی کرائی تھی۔ یہ تنبیہ ستائیس اگست کو جاری کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں جاری احتجاجی مظاہروں اور اہم مقامات پر جانے سے گریز کیا جائے۔

اس تنبیہ میں تشدد کے متعدد واقعات کا ذکر بھی کیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ حملہ آور بازاروں، ہوٹلوں ، سکولوں اور دیگر مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔