کشمیر: نالے میں طغیانی تین ہلاک، نو لاپتہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 ستمبر 2012 ,‭ 14:07 GMT 19:07 PST
فائل فوٹو

پولیس کے مطابق نالے میں بہہ جانے والوں میں بچے، مرد، خواتین شامل ہیں

پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں طغیانی کے باعث تین افراد ہلاک جبکہ نو لاپتہ ہوگئے۔

یہ واقعہ بدھ کی صبح مظفرآباد کے شمال مغرب سے بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مچھیارہ گاؤں میں پیش آیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات سے شروع ہونے والی بارشوں کی وجہ سے مچھیارہ گاؤں کے بیچ سے گذرنے والے برساتی نالے میں شدید طغیانی کی وجہ سے بارہ افراد پانی میں بہہ گئے۔

پولیس کے مطابق جو افراد پانی میں بہہ گئے وہ یا تو نالے سے لکڑی پکڑنے آئے تھے یا وہ پانی کا بہاؤ دیکھنے کے لیے نالے کے آر پار جمع ہوئے تھے یا پھر وہ نالے کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ نالے میں بہہ جانے والوں میں بچے، مرد اور خواتین شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق اب تک تین افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جن میں ایک بچی اور دو مرد شامل ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ دیگر نو افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں جن میں مقامی افراد، پولیس، فوج اور رضا کار حصہ لے رہے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بدھ کو دوپہر کے بعد بارش کا سلسلہ رک گیا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں بارشوں کے دوران تودے گرنا، نالوں میں طغیانی یا دریاؤں میں سیلاب کی سی صورت حال معمول ہے جس کی اہم وجہ جنگلات کی وسیع پیمانے پر کٹائی بتائی جاتی ہے۔

سنہ انیس سو سینتالیس میں برصغیر کی تقیسم کے وقت کشمیر کے اس خطے میں تقریباً چالیس فیصد حصے پر جنگلات پھیلے ہوئے تھے جو اب حکام کے مطابق صرف گیارہ فیصد رہ گئے ہیں۔

اگرچہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں تقریباً بیس سالوں سے سبز درخت کاٹنے پر مکمل پابندی ہے لیکن اس پابندی کے باجود یہ سلسلہ کبھی بھی نہیں رکا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔