کابینہ نے تین اہم بلوں کے مسودے منظور کر دیے

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 ستمبر 2012 ,‭ 15:57 GMT 20:57 PST
کابینہ کا اجلاس

کابینہ کے اس اجلاس میں دہشت گردی سے نمٹنے کے مجوزہ بل ’فئر ٹرائل ایکٹ‘ کے مسودوں کی منظوری کی گئی

پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے موُثر طریقے سے نمٹنے کے لیے وفاقی کابینہ نے انسداد دہشت گردی کے مجوزہ ترمیمی بل دو ہزار بارہ کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت دہشت گردوں کی مالی معاونت قابل تعزیر جرم ہوگا۔

مجوزہ بل کے مسودے کی منظوری اسلام آباد میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی گئی۔

انسداد دہشت گردی کےاس ترمیمی بل کو ’فئیر ٹرائل ایکٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس قانونی مسودے میں مواصلاتی اطلاعات کو قانونی درجہ دیا گیا ہے جس کے تحت ای میل، ٹیلی فون کال اور دوسری مواصلاتی اطلاعات کو عدالت میں شواہد کے طور پر پیش کیا جا سکے گا۔ نئے قانون کے تحت دہشت گردوں کی مالی معاونت ایک قابل تعزیر جرم ہوگا اور جرم کے مرتکب افراد کی جائدادیں ضبط اور ان کے بینک اکاوُنٹ منجمد کر دیے جائیں گے۔

"اس قانونی مسودے میں مواصلاتی اطلاعات کو قانونی درجہ دیا گیا ہے جس کے تحت ای میل، ٹیلی فون کال اور دوسری مواصلاتی اطلاعات کو عدالت میں شواہد کے طور پر پیش کیا جا سکے گا، نئے قانون کے تحت دہشت گردوں کی مالی معاونت ایک قابل تعزیر جرم ہوگا اور جرم کے مرتکب افراد کی جائدادیں ضبط اور ان کے بینک اکاوُنٹ منجمد کر دیے جائیں گے"

اس کے علاوہ کابینہ کے اجلاس میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی نشستیں بڑھانے کے مجوزہ ترمیمی بل کے مسودے کی منظوری بھی دی گئی جس کے تحت قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی نشستوں کا کوٹہ دس سے بڑھا کر چودہ کر دیا جائے گا جبکہ تمام صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی ایک، ایک نشست بڑھائی جائے گی۔

بجلی کی چوری اور تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے مجوزہ قانون کے مسودے کی بھی وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔اس بل کے تحت صنعتی، زرعی اور کمرشل بجلی کی چوری اور تنصیبات کو نقصان پہنچانے والے کو وارنٹ کے بغیر گرفتار کیا جا سکےگا جبکہ گھریلو بجلی چوری کرنے والوں کو چھ ماہ قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ دینا ہوگا۔

ان تینوں بلوں کو پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لیے پیش کیا جائے گا۔ کابینہ کے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی گئی جبکہ سری لنکا اور ترکی کے ساتھ آفات سے نمٹنے کے لیے معاہدوں اور قومی ماحولیاتی پالیسی کی منظوری بھی دی گئی۔ کابینہ کے اجلاس میں جن دوسرے امور پر غور کیا گیا ان میں ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتحال اور توانائی کے بحران سے نمٹنا شامل ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔