پانی سے چلنے والی کار پاکستان میں باعثِ تفریح

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 23:57 GMT 04:57 PST

پاکستان میں ایک مکینیکل انجینئیر آغا وقار احمد کا یہ متنازعہ دعویٰ کہ وہ پانی کی مدد سے کار چلا سکتے ہیں پہلے تو پاکستانی میڈیا میں توانائی کے بحران کے ایک کرشماتی حل کے طور پر پیش کیا گیا تاہم بعد میں یہی معاملہ سماجی رابطے کی دنیا میں تفریح کا ذریعہ بن گیا ہے۔

’واٹر کِٹ‘ کی اصطلاح اب سماجی رابطے کی دنیا میں کرکِٹ سے لے کر قومی سیاست ہر موضوع کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں لوگوں نے ’واٹر کِٹ‘ کے بارے میں جولائی دو ہزار بارہ کے آخری ہفتے میں سنا جب آغا وقار احمد نے دار الحکومت اسلام آباد میں دو وفاقی وزراء کی موجودگی میں آلے کی عملی تجربہ کر کے دکھایا۔

پاکستان کے صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے آغا وقار کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے پانی کے اجزا آکسیجن اور ہائیڈروجن کے ایٹمز کو با آسانی الگ کرنے کا طریقہ دریافت کر لیا ہے اور اس میں توانائی کا استعمال بھی انتہائی کم ہوتا ہے۔

انہوں نے اس سے پہلے سندھ کے ہی ایک وفاقی وزیر کو اپنے اس منصوبے کے بارے میں بتایا تھا۔ جس کے بعد وہ وزیر اس معاملے کو وفاقی کابینہ میں لے کر گئے جہاں اس معاملے پر بحث کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بنائی گئی۔

پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر میر چنگیز خان جمالی جنہوں نے آغا وقار کی واٹر کِٹ کا عملی مظاہرہ دیکھ رکھا تھا، اس تصور کو ایک انقلابی کوشش قرار دیا اور کہا کہ یہ ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں اہم کرادر ادا کرے گا۔

پاکستانی میڈیا میں اس ’واٹر کِٹ‘ کے حوالےسے جذبات اس قدر بڑھ گئے کہ کئی نامور ٹی وی اینکرز جیسے جیو ٹی وی کے حامد میر اور ڈان نیوز کے طلعت حسین نے اس نئی ایجاد کو لے کر تیس جولائی کو پروگرام کیے۔ پاکستان کے سرکاری ٹیلی وژن نے بھی اس واٹر کِٹ پر ایک پروگرام کیا جس میں اس ایجاد کے موجد آغا وقار احمد کو پاکستانی سائنسدان ڈاکِٹر ثمر مبارک کے روبرو بلایا گیا۔

میڈیا کی جانب سے اس قدر توجہ آغا وقار کو دنوں میں ہی ایک سلیبرٹی بنانے کے لیے کافی تھی۔

"بعض اینکرز جو حکومت کی ناکامیوں کے بارے میں بات کر کے تھک چکے ہیں اب راجیش کھنہ اور واٹر کٹ کی تحقیقات میں لگے ہیں۔"

تجزیہ کار اسد منیر

جیو نیوز کے حامد میر نے ایک قدم اور آگے جاتے ہوئے آغا وقار کو تیس اگست کو ایک مرتبہ پھر اپنے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں مدعو کر دیا۔ اس مرتبہ ان کے ساتھ پروگرام کے شرکاء میں ماہر طبیعات ڈاکِٹر پرویز ہود بھائی اور ایک جوہری سائنسدان ڈاکِٹر شوکت حمید خان شامل تھے۔

مبصرین کے مطابق پاکستان میں ’واٹر کِٹ‘ کا دعویٰ برطانیہ میں ’سلی سیزن ‘ کی ہر طرز کی کہانی ہے، جب صحافی ملکی سیاست کی دنیا میں سکوت کے دوران ہلکی پھلکی خبروں کو رپورٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

تجزیہ کار اسد منیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ’بعض اینکرز جو حکومت کی ناکامیوں کے بارے میں بات کر کے تھک چکے ہیں اب راجیش کھنہ اور واٹر کِٹ کی تحقیقات میں لگے ہیں۔‘

اسی طرح شاہد سعید نے ٹویٹ کیا کہ ’معاشی پالیسی، سپریم کورٹ، نئے صوبوں جیسے بوجھل موضوعات کو جن ٹاک شو، واٹر کِٹ، وینا بمقابلہ میرا جیسے موضوعات سے تبدیل ہونا چاہئیے۔‘

واٹر کِٹ کو جلد ہی پاکستان میں کئی سرکاری سائنسی اداروں اور پاکستان میں جوہری پروگرام کے بانی ڈاکِٹر عبدالقدیر خان سمیت بعض قومی سائنسی شخصیات کی حمایت حاصل ہوگئی۔

انہوں نے حامد میر کے پروگرام میں کہا ’میں نے اس معاملے کا جائزہ لیا ہے۔ اس میں کوئی دھوکہ شامل نہیں ہے۔‘

پاکستان میں سائنس اور صنعتی تحقیق کے ادارے کے سربراہ ڈاکِٹر شوکت پرویز نے آغا وقار کی تعریف کرتے ہوئے ’واٹر کِٹ‘ کو ایک ممکن منصوبہ قرار دیا۔

تاہم کئی نامور سائنسدانوں نے اس ’واٹر کِٹ ‘ کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے علمِ سائنس سے لاعلمی قرار دیا۔

"ہمارے رہنما تاریکی میں کھو گئے ہیں، وہ کسی کرشمے کی آس میں غلطیاں کر رہے ہیں۔ ہمارا میڈیا ایک تماشے کے پیچھے جا رہا ہے نہ کہ سچائی کے پیچھے۔ اور ہمارے عظیم سائنسدانوں کو معاملے کے متعلق شواہد سے زیادہ اس کے ’اہم‘ ہونے کی پرواہ ہے۔"

ماہر طبعیات ڈاکِٹر پرویز ہود بھائی

ماہر طبعیات ڈاکِٹر پرویز ہود بھائی نے دو اگست کو ایکسپریس ٹربیون میں چھپے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ ’آغا وقار احمد پاکستان کے لوگوں کی جانب سے قوم کے لیے ایک عظیم خدمت کے عوض ایک تمغے کے مستحق ہیں جو انہیں آئندہ چند روز میں ہی دیا جانا چاہیے‘۔ ان کے بقول آغا وقار نے اس بات سے پردہ اٹھایا ہے کہ پاکستان کتنے طویل عرصے سے لاعلمی کے گڑھے میں تھا۔

انہوں نے مزید لکھا ’ہمارے رہنما تاریکی میں کھو گئے ہیں، وہ کسی کرشمے کی آس میں غلطیاں کر رہے ہیں۔ ہمارا میڈیا ایک تماشے کے پیچھے جا رہا ہے نہ کہ سچائی کے پیچھے۔ اور ہمارے عظیم سائنسدانوں کو معاملے کے متعلق شواہد سے زیادہ اس کے ’اہم‘ ہونے کی پرواہ ہے۔‘

پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے سابق وزیر اور سائنسدان ڈاکِٹر عطاالرحمٰن نے بھی اس دعوے کو کہ ’ایک ہزار سی سی کار کو ایک لیٹر پانی سے چالیس کلو میٹر چلایا جا سکتا ہے‘ بکواس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیان صرف پاکستان میں دیے جا سکتے ہیں۔

پاکستان میں سائنس دانوں کی برادری اور سوشل میڈیا کی جانب سے اس معاملے پر شدید تنقید کے بعد ڈاکِٹر عبدالقدیر خان نے اس حوالے اپنا موقف تبدیل کر دیا۔

انہوں نے ٹویٹ کیا ’واٹر کِٹ کے بارے میں میرے موقف کو سمجھنے میں غلطی کی گئی۔ میں نے کہا تھا کہ ہمیں اس شخص کو اس کی بات ثابت کرنے کا موقع دینا چاہیئے۔‘

"قومی ٹیلی وژن ایک نہ ختم ہونے والی بے اطمینانی کا ذریعہ بنا۔ آغا وقار جیسے لوگوں کو اتنا ائیر ٹائم دینا ناقابلِ سوچ حد تک خطرناک ہے کیونکہ صرف بچوں ہی کے دماغ جلد متاثر ہو نے والے نہیں ہوتے۔"

بلاگر، فائزہ رحمان

بلاگرز نے پاکستانی ٹیلی وژن چینلز کی جانب سے ’واٹر کِٹ‘ کو دی جانے والی اس قدر اہمیت پر ناراضی کا اظہار کیا۔

فائزہ رحمان نے یکم ستمبر کو ایکسپریس ٹربیون میں لکھا ’ قومی ٹیلی وژن ایک نہ ختم ہونے والی بے اطمینانی کا ذریعہ بنا۔ آغا وقار جیسے لوگوں کو اتنا ایئر ٹائم دینا ناقابلِ سوچ حد تک خطرناک ہے کیونکہ صرف بچوں ہی کے دماغ جلد متاثر ہو نے والے نہیں ہوتے۔‘

پاکستان میں کئی لوگوں سے سماجی رابطے سائٹس پر اس صورتحال کا مزاح بھی بنایا۔

ایک ٹویٹ میں لکھا گیا ’لوگ اس بات پر اتنا کیوں بول رہے ہیں کہ حدِ حرکیات کے قوانین کو توڑا نہیں جا سکتا؟ مجھے بتاؤ کہ پاکستان میں کون سا قانون ایسا ہے جسے توڑا نہیں گیا؟‘

میڈیا میں آغا وقار احمد کے دعوے پر بحث لگ بھگ ختم ہو چکی ہے لیکن لفظ ’واٹر کِٹ‘ اب بھی سماجی رابطے کی دنیا میں استعمال ہو رہا ہے۔

افتخار فردوس نے ٹویٹ کیا ’پاکستانی لغت میں ایک اور اضافہ ’ تم بھی واٹر کِٹ ہو‘، مطلب تم نہ صرف دھوکے باز ہو بلکہ اس پر اڑے ہوئے بھی ہو‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔