’اقلیتوں کے لیے گیارہ نشستیں بڑھانے کا فیصلہ‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 10:25 GMT 15:25 PST

وفاقی حکومت نے آئین میں تیئسویں ترمیم کا بل تیار کر لیا ہے جس کے تحت قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کے لیے گیارہ نشستیں بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس وقت قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کے لیے تینتیس نشستیں مختص ہیں اور تیئسویں آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے بعد ان کی تعداد چوالیس ہوجائے گی۔

وفاقی کابینہ پانچ ستمبر کو اس آئینی بل کے مسودے کی منظوری دے چکی ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ پارلیمان کے رواں سیشن کے دوران اس بل کی منظوری لی جائے۔

بی بی سی کے پاس حکومت کے تیار کردہ اس آئینی بل کے مسودے کی کاپی موجود ہے جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی نشستیں دس سے بڑھا کر چودہ کی جائیں۔

نشستوں کی تعداد میں اضافہ

چاروں صوبوں میں اقلیتوں کی نشستوں میں اضافے کے بعد صوبہ سندھ کی مجموعی نشتیں ایک سو اکہتر، پنجاب کی تین سو تہتر، خیبر پختونخوا کی ایک سو پچیس اور بلوچستان اسمبلی کی نشتوں کی مجموعی تعداد چھیاسٹھ ہوجائے گی۔

قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی چار نشستیں بڑھنے کے بعد مجموعی نشستوں کی تعداد دو سو بیالیس سے بڑھ کر دو سو چھیالیس ہوجائے گی۔

مجوزہ آئینی ترمیمی بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ سندھ کی اسمبلی میں اقلیتوں کی نشستیں نو سے بڑھا کر بارہ، پنجاب میں آٹھ سے بڑھا کر دس جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ایک ایک نشست بڑھانے کی تجویز ہے جس کے بعد دونوں صوبوں میں اقلیتوں کی نشستیں چار چار ہو جائیں گی۔

چاروں صوبوں میں اقلیتوں کی نشستوں میں اضافے کے بعد صوبہ سندھ کی مجموعی نشتیں ایک سو اکہتر، پنجاب کی تین سو تہتر، خیبر پختونخوا کی ایک سو پچیس اور بلوچستان اسمبلی کی نشتوں کی مجموعی تعداد چھیاسٹھ ہوجائے گی۔

مجوزہ تیئسویں آئینی ترمیمی بل کے اغراض و مقاصد میں بتایا گیا ہے کہ آئین کی شق چھتیس کے تحت ریاست اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی پابند ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کا کافی عرصے سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ آبادی بڑھنے کے بعد ان کے لیے مخصوص نشستوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا اس لیے ان کی نشستیں بڑھائی جا رہی ہیں۔

وفاقی کابینہ نے رواں سال گیارہ جولائی کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی نشستوں می اضافے کی اصولی منظوری دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون کی سربراہی میں کمیٹی قائم تھی۔

اس کمیٹی نے تفصیلی غور کے بعد اقلیتوں میں آبادی میں تناسب کے اعتبار سے اپنی تجاویز مرتب کیں اور آئینی ترمیمی بل کی صورت میں اُسے کابینہ کے سامنے پیش کیا جس کی پانچ ستمبر کو منظوری دی گئی۔

یاد رہے کہ مسلمان اکثریت آبادی والے ملک پاکستان میں اقلیتوں کی تعداد تین فیصد کے قریب ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔