’دہشت گردی سے محفوظ تعلقات کے خواہاں ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 07:52 GMT 12:52 PST

بھارت کے وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا پاکستان کے تین روزہ دورے پر جمعے کی صبح دارالحکومت اسلام آباد پہنچے ہیں۔

پاکستان میں قیام کے دوران وہ اعلیٰ حکام کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

ان کے دورے کا مقصد پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر کے ساتھ مذاکرات ہیں جن میں دونوں ملکوں کے درمیان ویزے کے اجراء کے طریقۂ کار کو آسان بنانے پر بات چیت ہو گی۔

نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق پاکستان پہنچنے کے فوراً بعد اپنے بیان میں بھارتی وزیرخارجہ نے کہا کہ وہ پرامن دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی خرابی کا باعث بننے والے معاملات کو حل کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔

انہوں نے کہا ’ہم ایسے مستقبل کی خواہش رکھتے ہیں جس میں دونوں ملکوں دوستانہ ماحول میں تعاون سے بھرپور اور تشدد اور دہشت گردی سے محفوظ تعلقات کے ساتھ رہ سکیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی اعلیٰ قیادت نے دونوں ملکوں کے درمیان معنی خیز مذاکرات کے لیے وزرا خارجہ کو مینڈیٹ دیا ہے۔

ایس ایم کرشنا نے ہوائی اڈے پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا پیغام لائے ہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ پرامن اور خوشحال پاکستان دونوں ملکوں اور پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا ’ایسا پاکستان جو نہ صرف خود کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے امن کے ساتھ رہے‘۔

بھارتی وزیرِ خارجہ نے بعد ازاں ایوانِ وزیراعظم میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے ساتھ ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ان کے وفد کے ارکان کے علاوہ پاکستانی وزیرِ خارجہ حناربانی کھر بھی موجود تھیں۔

دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان مذاکرات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے کے لیے پاک بھارت سیکرٹری خارجہ کے درمیان دفتر خارجہ اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی جب کہ بھارت کی جانب سے سیکرٹری رانجن متھائی نے کی۔

پاک بھارت وزرائے خارجہ کے درمیان باضابطہ مذاکرات سنیچر آٹھ اگست کو ہوں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔