پچیس پاکستانی خواتین سعودی عرب میں قید

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 06:27 GMT 11:27 PST

عمرہ کی غرض سے سعودی عرب جانے والی پچیس پاکستانی خواتین مختلف جرائم کے الزام میں سعودی عرب میں قید ہیں۔

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے جمعرات کو ایوان بالا سینیٹ کو بتایا ہے پچیس پاکستانی خواتین چوری اور غیر اخلاقی حرکتیں کرنے کے جرم میں قید ہیں۔

وقفہ سوالات کے دوران مسز سحر کامران کے سوال کے تحریری طور پر پیش کردہ جواب میں انہوں نے بتایا ہے کہ یہ خواتین عمرہ کرنے کے لیے گئیں تھیں۔

ان کے بقول کچھ خواتین پر حرم کے اندر چوری کرنے اور چیزیں چھیننے کے علاوہ بد کاری کرنے اور غیر اخلاقی حرکتیں کرنے کے الزامات ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کو وقفہ سوالات میں بتایا گیا تھا کہ دو سو اکتیس پاکستانی سعودی عرب کی مختلف جیلوں میں قید ہیں جن میں تیس خواتین بھی شامل ہیں۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کو وقفہ سوالات میں بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کے چار سالہ عرصے میں غربت کم کرنے کے خصوصی منصوبے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے دو ارب انتالیس کروڑ روپے اشتہارات پر خرچ کیے جاچکے ہیں۔ جس میں سے ساڑھے پچپن کروڑ پرنٹ اور باقی الیکٹرانک میڈیا پر خرچ ہوئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔