پاکستان اور بھارت کا نئے ویزا نظام پر معاہدہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 ستمبر 2012 ,‭ 13:46 GMT 18:46 PST

پاکستان اور بھارت نے دونوں ملکوں کے درمیان ویزا پالیسیاں نرم کرنے کے لیے دو اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک اور دورے پر آئے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے ویزے کے حصول کو آسان بنانے کے لیے نئے ویزا نظام کے اجراء کے معاہدے پر دستخط کیے۔ ان معاہدوں کے تحت مختلف شعبوں میں ویزا پالیسیاں نرم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سیاحتی ویزہ

ایک نئی قسم کا تیس روزہ گروپ ویزا دس سے پچاس افراد کے لیے ہو گا جس کی معیاد تیس روز ہو گی۔ صرف دونوں ممالک کے رجسٹرڈ سیاحتی کمپنیاں یہ ویزہ حاصل کرسکیں گی۔ دونوں ممالک ایسی سیاحتی کمپنیوں کی فہرست کا آپس میں گاہے بگاہے تبادلے کرتے رہیں گے۔ یہ کمپنیاں سیاحوں کی جانب سے پولیس رپورٹ کی ذمہ دار ہوں گیں۔ یہ گروپ ویزا طالب علموں کو بھی میسر ہوگا جو سیاحت کے غرض سے ایک دوسرے کے ملک جانا چاہتے ہیں۔

ویزیٹر ویزہ

عام سفری ویزہ پہلے سنگل اینٹری اور تیس دن کا ہوتا تھا تاکہ لوگ اپنے رشتہ داروں، دوستوں، بزنس مین سے ملاقات کرلیں۔ اب اس ویزے کی معیاد بڑھا کر چھ ماہ کردی ہے لیکن وہاں ٹھہرنے کی مدت تین ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ یہ ویزہ پانچ شہروں کا ہو گا۔

کاروباری افراد کے لیے ویزہ

ایسے کاروباری حضرات جن کی آمدنی پانچ لاکھ روپے یا اس کے برابر ہو گی یا ان کا سالانہ کاروبار تیس لاکھ سالانہ ہو گا ان افراد کو ایک سال کا ویزا دیا جائے گا جس میں وہ پانچ مقامات تک چار بار آ جا سکیں گے ۔

ایسے کاروباری حضرات جن کی آمدن پچاس لاکھ تک ہو گی یا ان کا سالانہ کاروبار تین کروڑ ہو گا انہیں ایک سال کا متعدد بار داخلے کا ویزا دیا جائے گا جس میں وہ دس مقامات تک جا سکیں گے۔

اس ویزے میں ایسے افراد تیس دن سے زیادہ قیام نہیں کریں گے اور انہیں پولیس کو رپورٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ ایسے تمام کاروباری ویزوں کے اجرا کے لیے پانچ ہفتوں سے زیادہ کا وقت نہیں لیا جائے گا۔

کاروباری افراد کے لیے ایک سال کا متعدد بار داخلے کا ویزا جاری کیا جائے گا جس میں پولیس رپورٹنگ نہیں ہو گی اور زیادہ شہروں تک رسائی حاصل ہو گی۔

پینسٹھ سال سے زیادہ عمر

پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے افراد کو دو سال کا متعدد بار داخلے کا ویزہ جاری کیا جائے گا۔ ان افراد کو اٹاری واہگہ بارڈر پر پہنچنے پر پینتالیس روز کا ویزہ جاری کیا جائے گا۔ اس ویزے کی توسیع نہیں کرائی جاسکے گی۔

چیک پوسٹس

پہلے کی طرح جس شہر سے ملک میں داخل ہوئے ہیں اسی سے نکلنے والی شرط ختم کردی گئی ہے۔ ہوائی سفر کرنے والوں کے لیے یہ چیک پوسٹس ممبئی، دلی، چنائی اور پاکستان میں لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں قائم کیے جائیں گے۔

سمندر کے ذریعے سفر کرنے والوں کے لیے ممبئی اور کراچی میں قائم کیے جائیں گے۔ تاہم اٹاری واہگہ پوسٹ کو پیدل پار کرنے والے افراد کو اسی راستے سے واپس آنا لازمی ہے۔

ویزا فیس

ویزا فیس پندرہ روپے سے بڑھا کر سو روپے کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔