سندھ بلدیاتی نظام پر اختلافات، مزید وزراء مستعفیٰ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 ستمبر 2012 ,‭ 20:57 GMT 01:57 PST

آرڈیننس کے اجراء پر اختلاف کی وجہ سے اب تک سندھ کابینہ کے نو اراکین مستعفی ہو چکے ہیں۔

سندھ میں بلدیاتی نظام سے متعلق آرڈیننس کے اجراء کے ایک ہی دن بعد، پیپلز پارٹی کی مزید اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی نے بھی اپنے استعفے وزیراعلیٰ کو بھجوا دیے ہیں۔

جمعے کو ایک وزیر کے استعفے کے بعد اب تک آرڈیننس پر اختلاف کرتے ہوئے مستعفیٰ ہونے والے سندھ کابینہ کے اراکین کی تعداد نو ہوگئی ہے۔

سنیچر کو اپنے استعفے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کو بھجوانے والوں میں مسلم لیگ فنکشنل کے دو وزراء جام مدد علی، اور رفیق بھانبھن، وزیراعلیٰ سندھ کے دو مشیر امتیاز شیخ اور عبدالرزاق نظامانی، وزیر اعلیٰ کے دو معاونین خصوصی خادم حسین اور نور حسن خاصخیلی، مسلم لیگ قاف کے شہریار مہر، اور نیشنل پیپلز پارٹی کے عابد جتوئی شامل ہیں۔

مستعفیٰ ہونے والے وزیر اور مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما جام مدد علی نے بی بی سی کے گفتگو کرتے ہوئے اپنی جماعت کے اراکینِ کابینہ کے استعفوں کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک تو جس انداز اور طریقے سے آرڈیننس جاری کیا گیا، وہ غلط ہے، یہ جمہوریت ہے، بہتر ہوتا کہ آرڈیننس جاری کرنے کی بجائے معاملہ اسمبلی میں پیش کیا جاتا، حکومت کے پاس اکثریت ہے، وہ منظور کروا لیتی۔

جام مدد علی نے کہا کہ اس آرڈیننس کے ذریعے صوبے کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے جہاں پانچ مراکز میں ایک نظام ہوگا اور باقی اضلاع میں دوسرا۔

جام مدد علی نے کہا کہ یہ مشکل نظر آتا ہے کہ اب یہ استعفے واپس لیے جائیں۔

"جس انداز اور طریقے سے آرڈیننس جاری کیا گیا، وہ غلط ہے، یہ جمہوریت ہے، بہتر ہوتا کہ آرڈیننس جاری کرنے کی بجائے معاملہ اسمبلی میں پیش کیا جاتا، حکومت کے پاس اکثریت ہے، وہ منظور کروالیتی۔ "

وزیر اور مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما جام مدد علی

نیشنل پیپلز پارٹی کے عابد جتوئی کے استعفے کی تصدیق ان کے معاون نعیم رحمٰن نے کی۔

واضح رہے کہ سندھ میں قائم مخلوط حکومت کے مرکزی اتحادیوں پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے درمیان قریباً ساڑھے چار برس تک اس معاملے پر مشاورت اور غور و خوض جاری تھا۔

اس کے نتیجے میں جمعے کی شب گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان نے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس یا ایس پی ایل جی او پر دستخط کیے تھے۔

نئے آرڈیننس کے تحت آنے والے بلدیاتی نظام میں اب سندھ کے پانچ بڑے شہری مراکز یعنی کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور میر پور خاص میں منتخب عوامی نمائندوں (یا لارڈ مئیر) کی زیر قیادت میٹروپولیٹن کارپوریشنز قائم ہوں گی۔

دیگر اٹھارہ اضلاع میں منتخب عوامی نمائندے (یا چیئرمن ڈسٹرکٹ گورنمنٹ) کے زیر قیادت ضلعی حکومتیں قائم کی جائیں گی۔

ساڑھے چار برس تک پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان جن بنیادی امور ہر بحث و مباحثہ ہوتا رہا ان میں محکمۂ پولیس، ریوینیو، صحت اور تعلیم کا اس نئے نظام کے تحت ہونے یا صوبائی حکومت کے تحت ہونا شامل تھے۔

ایک صوبے میں دو نظام

نئے آرڈیننس کے تحت آنے والے بلدیاتی نظام میں اب سندھ کے پانچ بڑے شہری مراکز یعنی کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور میر پور خاص میں منتخب عوامی نمائندوں (یا لارڈ مئیر) کی زیر قیادت میٹروپولیٹن کارپوریشنز قائم ہوں گی۔

دیگر اٹھارہ اضلاع میں منتخب عوامی نمائندے (یا چیئرمن ڈسٹرکٹ گورنمنٹ) کے زیر قیادت ضلعی حکومتیں قائم کی جائیں گی۔

سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے آج وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں وضاحت کی کہ آرڈیننس کے متعلق بعض غلط فہمیاں ہیں اور یہ کہ پولیس اور ریونیو جیسے محکمے صوبائی معاملہ ہیں اور صوبائی حکومت ہی کے پاس رہیں گے۔

آرڈیننس کے جاری ہوتے ہی اتحادیوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار اس وقت دیکھنے میں آیا جب مرکز اور صوبے میں حکمران اتحاد میں شریک جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے اراکینِ پارلیمان نے اسلام آباد میں صحافیوں کے سامنے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا اور سندھ حکومت میں شامل اپنے واحد وزیر امیر نواب کے استعفیٰ کا اعلان کردیا۔

ناراض اتحادیوں کے بارے میں سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ اس معاملے میں تمام اتحادیوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیئر صوبائی وزیر پیر مظہر الحق نے مسلم لیگ قاف کے امتیاز شیخ سے ملاقات کی اور عوامی نیشنل پارٹی کے دوستوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو ناراض نہیں کرنا چاہتے اور سب کے خدشات دور کریں گے۔

گورنر کے دستخط کے بعد آرڈیننس نوے دن کے اندر اندر سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور جس سے منظوری کے بعد یہ ایک ایکٹ بن جائے گا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔