مون سون سے سیلاب تو نہیں برساتی ریلوں کا خطرہ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 ستمبر 2012 ,‭ 18:33 GMT 23:33 PST

پاکستان میں اس سال مون سون کا آغاز کچھ دیر سے ہوا ہے اور اس کی وجہ سے اب تک انہتر افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ ظفر قادر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ’ملک کے بعض علاقوں میں سیلاب تو نہیں مگر برساتی ریلوں کا خطرہ ہے‘۔

بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس سال مون سون کا آغاز کچھ دیر سے ہوا ہے اور اس کی وجہ سے اب تک انہتر افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان کے مطابق ’اس سال مون سون انیس اگست سے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے یعنی تین ہفتے سے مون سون چل رہا ہے۔‘

ظفر قادر نے مزید کہا کہ ’ان بارشوں اور برساتی ریلوں کے نتیجے میں اب تک بد قسمتی سے انہتر اموات ہو چکی ہیں۔ ان میں سے اکتیس آزاد جموں اور کشمیر میں، تیئس خیبر پختون خوا کے صوبے میں، چار سندھ میں، چار بلوچستان اور تین دارلحکومت اسلام آباد میں ہوئی ہیں۔‘

انہوں نے باسٹھ کے قریب افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی۔

املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں ظفر قادر نے کہا کہ ’سات ہزار کے قریب مکانات تباہ ہوئے ہیں مکمل یا جزوی طور پر‘۔

انہوں نے سیلاب کے امکانات کے بارے میں کہا کہ ’دریائی سیلاب کا تو خدشہ نہیں ہے لیکن شہری علاقوں میں برساتی ریلوں کا خدشہ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ حیدرآباد کا شہر کل سے پانی میں ہے اسی طرح ملتان اور ڈیر غازی خان میں کافی پانی شہر میں آ گیا ہے۔

"ان بارشوں اور برساتی ریلوں کے نتیجے میں اب تک بد قسمتی سے انہتر اموات ہو چکی ہیں۔ ان میں سے اکتیس آزاد جموں اور کشمیر میں، تئیس خیبر پختون خوا کے صوبے میں، چار سندھ میں چار بلوچستان اور تین دارلحکومت اسلام آباد میں ہوئی ہیں۔ "

قدرتی آفات سے نپٹنے کے قومی ادارے کے سربراہ ظفر قادر

پاکستا ن کے محکمۂ موسمیات نے مزید بارشوں کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔

جنوبی پنجاب میں کوہ سلیمان کے مشرقی اضلاع یعنی ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور رحیم یار خان میں برساتی نالوں سے آنے والے برساتی ریلوں کی اطلاعات ہیں۔

اسی طرح کراچی، حیدرآباد، ملتان، سکھر اور بعض دوسرے شہروں کو بھی برساتی ریلوں سے خطرہ ہو گا۔

ان برساتی ریلوں کے نتیجے میں ان اضلاع کے بیشتر دیہات کہ زیر آب آنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

جیسا کہ ڈیرہ غازی خان کے گاؤں گھمن کے نوے فیصد مکانات رود کوہی سوری لُنڈ کے سیلابی ریلے کی وجہ سے جزوی اور مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاع بھی ہے۔

ڈیرہ غازی خان کے ڈی سی او افتخار ساہو سے رابطہ کی بار بار کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے مسلسل کوششوں کے باوجود جواب نہیں دیا۔

کوہ سلیمان سے آنے والے برساتی نالوں کو مقامی لوگ رود کوہی کہتے ہیں جن کی وجہ سے برساتی ریلوں کا خطرہ زیادہ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔