چین میں پاکستانی قیدی: کوئی پرسانِ حال نہیں

آخری وقت اشاعت:  پير 10 ستمبر 2012 ,‭ 16:30 GMT 21:30 PST
راجہ پرویز اشرف چین کے دورے پر

راجہ پرویز اشرف کا چین کے تیانجن ایرپورٹ پر خیر مقدم کیا جا رہا ہے

وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے آج چین روانہ ہوئے۔ اس موقع پر چین کی جیلوں میں قید پاکستانی شہریوں کے لواحقین نے ان سے چینی حکومت کے ساتھ قیدیوں کی وطن منتقلی کا معاملہ اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

چین کی مختلف جیلوں میں ساڑھے تین سو پاکستانی شہری سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ ان میں سولہ خواتین بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے یہ پاکستانی شہری کسٹم قوانین کی خلاف ورزی سے لے کر منشیات کی سمگلنگ تک مختلف الزامات کے تحت بعض صورتوں میں پندرہ پندرہ سال سے چینی جیلوں میں بند ہیں۔

عترت حسین بھی انہی میں سے ایک ہیں جو سات سال قبل زمینی راستے سے چین جاتے ہوئے گرفتار ہوئے تھے۔ ان کے بھائی وجاہت علی نے گلگت سے موبائل فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ان سات سالوں میں انہوں نے حکومت پاکستان اور چین سے ہر سطح پر رابطہ کیا لیکن وہ اپنے بھائی کی کوئی قانونی مدد نہیں کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ وہ متعدد بار چین گئے اور مختلف پاکستانی وزارتوں سے رابطے کیے لیکن کوئی بھی ان کی مدد نہیں کر سکا۔

’چین کے قوانین بہت مختلف ہیں۔ وہاں ہم وکیل کی خدمات بھی حاصل نہیں کر سکے۔ چین میں پاکستانی سفارتخانے بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ حکومت پاکستان نے بھی اس بارے میں کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔‘

"چین میں ساڑھے تین سو پاکستانی قیدی مختلف جرائم میں سزائیں کاٹ رہے ہیں جن میں سولہ خواتین بھی شامل ہیں۔"

پاکستان اور چین کے درمیان سنہ دو ہزار سات میں قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہوا تھا۔ اس کے بعد سے اس پر عمل نہیں ہو سکا ہے۔ چین میں قید پاکستانیوں کی رہائی کی مہم چلانے والے وجاہت علی کا کہنا ہے کہ انہوں نے راجہ پرویز اشرف کی چین روانگی سے قبل ان کے دفتر کو خط لکھ کر اس معاہدے پر عمل کرنے اور چین میں قید پاکستانیوں کا معاملہ چینی قیادت کے ساتھ اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

’ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان قیدیوں کی حوالگی کے معاہدے پر عمل کیا جائے۔ ہم اپنے پیاروں کو اپنے ملک میں دیکھنا چاہتے ہیں، چاہے وہ جیل ہی میں کیوں نہ ہوں۔‘

چین میں قید پاکستانیوں کے بارے میں حکومت پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ معاملہ حکومت چین کے ساتھ زیربحث ہے اور اس پر جلد ہی نتیجہ خیز پیش رفت متوقع ہے۔ اس طرح کے بیانات کئی سال سے سننے میں آ رہے ہیں۔ جب کہ اس دوران چینی جیل سے ایک پاکستانی کی لاش بھی پاکستان آ چکی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔